LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

یورپ اور ایشیا کو ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا خطرہ تھا، برطانوی خبر ایجنسی

Web Desk

22 May 2026

عالمی سیاست اور دفاعی میدان سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور خوفناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایک برطانوی مقتدر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے عروج کے دوران یورپ اور ایشیا کو یہ شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ امریکہ، ایران پر باقاعدہ ایٹمی حملہ (Nuclear Attack) کرنے والا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ وہ “ایرانی تہذیب اور اس کے تاریخی مقامات کو اجاڑ دیں گے”۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، عالمی سفارتی حلقوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کا یہ مطلب لیا کہ امریکہ روایتی ہتھیاروں کے بجائے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اس خطرناک ترین بیان کے بعد یورپی ممالک میں کھلبلی مچ گئی، جس پر فوری طور پر یورپی ممالک کی قیادت نے امریکی محکمہ خارجہ (State Department) سے ہنگامی رابطے کیے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ نے صورتحال کو واضح کرنے یا ایٹمی حملے کی تردید کرنے کے بجائے یورپی اتحادیوں کو کوئی واضح اور تسلی بخش جواب نہیں دیا، جس سے شکوک و شبہات یقین میں بدلنے لگے۔

رپورٹ کے مطابق، ممکنہ امریکی ایٹمی حملے کے اسی شدید خطرے اور عالمی تباہی کے پیشِ نظر برطانیہ، فرانس اور جرمنی (E3) نے فوری طور پر سر جوڑ لیے اور پسِ پردہ ایک انتہائی سخت مشترکہ مذمتی بیان تیار کر لیا تھا تاکہ امریکہ کو اس اقدام سے روکا جا سکے۔ تاہم، اسی ہنگامی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی (Ceasefire) کا اعلان کر دیا، جس کے بعد دنیا ایک ہولناک ایٹمی جنگ کے سائے سے بال بال بچ گئی۔ سکیورٹی ماہرین اس انکشاف کو حالیہ تاریخ کا خطرناک ترین سفارتی بحران قرار دے رہے ہیں۔