LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایئرچیف کی ترک ہم منصب سے ملاقات، تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا کل سے چین کا 4 روزہ اہم سرکاری دورہ اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا کی گلگت آمد، ایئرپورٹ پر شایانِ شان استقبال مناسکِ حج سے قبل مکہ مکرمہ میں آخری نمازِ جمعہ، 15 لاکھ سے زائد عازمین کی مسجد الحرام میں حاضری بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں: وزیراعظم سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قرار امریکا کی پاکستان ریلوے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی یقین دہانی پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ بجلی بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ فیفا ورلڈ کپ 2026™؛ نیویارک کے شہریوں کے لیے صرف 50 ڈالرز میں میچ ٹکٹ اور مفت بس سروس کا اعلان، یورپ اور ایشیا کو ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا خطرہ تھا، برطانوی خبر ایجنسی غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا گرین زون میں آغاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا دورہ آج رات نہیں ہوگا: عرب میڈیا ملک بھر میں ایل این جی مہنگی، اوگرا نے قیمتوں میں 28 فیصد اضافہ کر دیا

گزشتہ 5 سالوں میں ریلوے کے 448 حادثات، 169 افراد جاں بحق؛ قومی اسمبلی میں سنسنی خیز دستاویزی رپورٹ پیش

Web Desk

22 May 2026

پاکستان ریلوے میں مسافروں کے تحفظ اور ٹرینوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک اور چشم کشا سرکاری رپورٹ قومی اسمبلی (National Assembly) میں پیش کر دی گئی ہے۔ وزارتِ ریلوے کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 448 چھوٹے بڑے ریلوے حادثات رونما ہوئے، جن میں سے 164 حادثات انتہائی بڑے اور ہولناک نوعیت کے تھے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق، ان حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 169 افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی درجہ بندی درج ذیل ہے:

  • مسافر: 134 افراد (جو ٹرینوں میں سفر کر رہے تھے)

  • عام شہری/سڑک استعمال کرنے والے: 28 افراد (جو ریلوے کراسنگ یا پھاٹکوں پر حادثات کا شکار ہوئے)

  • ریلوے ملازمین: 07 ملازمین (جو دورانِ ڈیوٹی ان حادثات کی نذر ہوئے)

ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور تصادم کے واقعات

قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ اور سگنلنگ کا نظام کس قدر مخدوش ہو چکا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، گزشتہ 5 برسوں میں سب سے زیادہ ٹرینوں کے پٹری سے اترنے (Derailment) کے واقعات پیش آئے۔

حادثات کی نوعیت کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

حادثے کی نوعیت واقعات کی تعداد
ٹرینوں کا پٹری سے اترنا 132 واقعات
ریلوے پھاٹکوں پر تصادم 16 واقعات
ٹرینوں میں آتشزدگی (آگ لگنے کے واقعات) 10 واقعات
مال گاڑیوں کا آپس میں ٹکرانا 03 واقعات
مسافر اور مال گاڑیوں میں تصادم 02 واقعات
مسافر ٹرینوں کا آپس میں تصادم 01 واقعہ