سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قرار
Web Desk
22 May 2026
وفاقی آئینی عدالت نے ملک بھر کے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور بیوروکریسی کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری ادارے اور خود مختار کارپوریشنز اپنی سینیارٹی لسٹیں (Seniority Lists) ہر سال لازمی اپ ڈیٹ کر کے اپنی آفیشل ویب سائٹس پر پبلک کرنے کی پابند ہوں گی۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی سینیارٹی کی فہرستیں کسی بھی صورت خفیہ نہیں رکھی جا سکتیں اور سینیارٹی لسٹوں تک آسان رسائی حاصل کرنا ہر شہری اور سرکاری ملازم کا آئینی و بنیادی حق ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے حکم نامے میں تمام اداروں کو مندرجہ ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
-
تمام سرکاری و خودمختار محکمے ہر سال جنوری کے مہینے میں اپنی سینیارٹی لسٹیں لازمی اپ ڈیٹ کریں۔
-
محکموں میں ہونے والی کسی بھی نئی بھرتی، ملازمین کی ترقی (Promotion) یا مستقلی (Confirmation) کے فوری بعد ان فہرستوں پر نظرثانی کرنا لازم ہوگا۔
-
ملازمت کے معاہدے (Contract) میں شامل کی گئی کوئی بھی ایسی شرط جو مروجہ قانون کے خلاف ہو، وہ کسی ملازم کے قانونی حقوق کو ختم نہیں کر سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پبلک ایڈمنسٹریشن کے ایک اہم ترین نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی اشتہار اور ایک ہی بیچ (Batch) کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی کا تعین صرف اور صرف میرٹ لسٹ میں حاصل کردہ پوزیشن کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ اس بنیاد پر کہ کس ملازم نے محکمے میں پہلے آ کر جوائننگ دی۔ عدالت نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ:
“سرکاری ملازمت میں ‘پہلے آؤ، پہلے پاؤ’ (First-come, first-served) کا اصول منصفانہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے تقاضوں اور آئین میں دیے گئے مساوی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”
عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی سینیارٹی سے متعلق دائر اپیل کو منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا، جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی (PQA) کی جانب سے جاری کردہ متنازع سینیارٹی لسٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی اور درست فہرست جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
کیس کے حقائق کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی نے درخواست گزار پائلٹ کو صرف ایک دن تاخیر سے ڈیوٹی جوائن کرنے کی بنیاد پر اپنے بیچ میٹ سے جونیئر قرار دے دیا تھا، حالانکہ وہ سلیکشن کمیٹی کی میرٹ لسٹ میں اپنے ساتھی سے بہتر پوزیشن پر موجود تھے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کی حتمی سفارشات کے بعد کوئی بھی محکمہ اپنی مرضی سے جوائننگ لیٹر کے اوقات تبدیل کر کے ملازمین کی سینیارٹی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ عام طور پر ملازم کو جوائننگ کے لیے 7 دن کا وقت دیا جاتا ہے، لہٰذا اس طے شدہ مدت کے اندر پہلے یا بعد میں آنے سے میرٹ کی پوزیشن تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت عالیہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے ملازمین کی مستقلی کے 7 سال بعد تک سینیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ فیصلے میں ریمارکس دیے گئے کہ پاکستان میں بے روزگاری کے خوف کے باعث غریب ملازمین اکثر محکموں کی سخت اور غیر قانونی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن کوئی بھی سرکاری محکمہ یا افسر ملازم کی اس مجبوری اور لاچاری کا فائدہ اٹھا کر قانون کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت پرانے عدالتی نظائر (Precedents) کا غلط استعمال کیا۔ عدالت نے اس تاریخی فیصلے کی کاپی فوری طور پر چاروں صوبوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کے چیف سیکرٹریز کو عمل درآمد کے لیے ارسال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایئرچیف کی ترک ہم منصب سے ملاقات، تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 May 2026
وزیراعظم شہباز شریف کا کل سے چین کا 4 روزہ اہم سرکاری دورہ
22 May 2026
اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا کی گلگت آمد، ایئرپورٹ پر شایانِ شان استقبال
22 May 2026
کوکین ڈیلر عرف ‘پنکی’ کے مقدمات؛ جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی
22 May 2026
مناسکِ حج سے قبل مکہ مکرمہ میں آخری نمازِ جمعہ، 15 لاکھ سے زائد عازمین کی مسجد الحرام میں حاضری
22 May 2026
قومی اسمبلی کا اجلاس؛ جبری برطرفیوں پر صحافیوں کا پریس گیلری سے واک آؤٹ،
22 May 2026
بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں: وزیراعظم
22 May 2026
گزشتہ 5 سالوں میں ریلوے کے 448 حادثات، 169 افراد جاں بحق؛ قومی اسمبلی میں سنسنی خیز دستاویزی رپورٹ پیش
22 May 2026