LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا

وہ منفرد عمارت جسے تعمیراتی عجوبہ قرار دیا جاتا ہے

Web Desk

21 May 2026

چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کو متعدد ایسے حیران کن اور دنگ کر دینے والے تعمیراتی منصوبے دیے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاہم، انہی شاہکاروں میں ایک ایسا منصوبہ بھی شامل ہے جسے جدید اسٹرکچرل انجینئرنگ کا ایک ’ناممکن کارنامہ‘ تصور کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ شاہکار چین کے گنجان آباد اور جدید شہر چونگ چنگ (Chongqing) میں واقع ایک منفرد ترین عمارت ہے۔

عام طور پر دنیا بھر میں بلند و بالا عمارات اور فلک بوس ٹاورز سطح زمین سے عمودی (Vertical) یعنی نیچے سے اوپر آسمان کی طرف جاتے ہیں، لیکن چونگ چنگ میں قائم ’’دی کرسٹل‘‘ (The Crystal) نامی یہ عمارت اپنی نوعیت کی بالکل منفرد اور اکیلی ہے۔ اس عمارت کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ زمین سے سیدھی اوپر جانے کے بجائے افقی (Horizontal) ہے، یعنی ایک طویل لکیر کی طرح دائیں سے بائیں جانب پھیلی ہوئی ہے۔

درحقیقت، اس تعمیراتی عجوبے کو باقاعدہ طور پر دنیا کی سب سے بلند افقی عمارت (Horizontal Skyscraper) ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کیونکہ یہ زمین پر کھڑی ہونے کے بجائے شہر کے 4 بڑے عمودی ٹاورز کی چھتوں کے اوپر کسی پل کی طرح ٹکی ہوئی ہے۔ اس حیرت انگیز پراجیکٹ کو مشہور تعمیراتی کمپنی ’کیپیٹل لینڈ‘ (CapitaLand) نے تیار کیا ہے، جس کی تعمیر پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز (پاکستانی اربوں روپے) کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔

اگر اس عمارت کی ظاہری اور تکنیکی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو اس کے باہری اسٹرکچر کو خوبصورت بنانے کے لیے 3 ہزار ہائی ٹیک گلاس پینلز (شیشے) اور اس کے اردگرد مضبوط گرفت کے لیے 5 ہزار المونیم پینلز کا استعمال کیا گیا ہے۔

خصوصیت تفصیلات
مجموعی لمبائی 300 میٹر
زمین سے بلندی 250 میٹر
مجموعی وزن 12,000 ٹن (ایفل ٹاور کے برابر)
ڈیزائن کی ساخت 4 اہم حصوں پر مشتمل، 4 ٹاورز پر ایستادہ

سطح زمین سے 250 میٹر کی بلندی پر ہوا میں معلق 300 میٹر لمبی یہ افقی عمارت مجموعی طور پر 4 بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا کل وزن 12 ہزار ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں موجود تاریخی ’ایفل ٹاور‘ (Eiffel Tower) کے کل وزن کے برابر ہے۔ اتنے بھاری بھرکم ڈھانچے کو چار ستون نما ٹاورز پر اس طرح متوازن کرنا کہ یہ شدید زلزلوں اور ہوا کے دباؤ کو برداشت کر سکے، وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر کے پٹرولیم، سول اور اسٹرکچرل انجینئرز اسے موجودہ دور کا ایک سچا تعمیراتی معجزہ قرار دیتے ہیں۔