LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی

امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں

Web Desk

18 May 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ امن عمل کے آغاز کے تناظر میں ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات اور جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کے سامنے 5 انتہائی سخت اور غیر لچکدار شرائط عائد کر دی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس نیوز ایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام بھیج دیا ہے کہ ان بنیادی شرائط کو پورا کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے امن عمل یا جنگ بندی کے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ امریکی انتظامیہ نے جنگ بندی کو بھی براہِ راست ان مذاکرات کی کامیابی سے مشروط کر دیا ہے۔ امریکا نے ایران کے اس دیرینہ اور بنیادی مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی سرزمین پر امریکی و اتحادی بمباری سے ہونے والے بھاری مالی و جانی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ طلب کیا گیا تھا۔ واشنگٹن نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کرے گا۔واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے پاس موجود 400 کلوگرام افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کو فوری طور پر ملک سے باہر منتقل کرے۔ ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات بند کر کے خود کو صرف ایک جوہری تنصیب تک محدود کرنا ہوگا، یعنی ایران کو مستقبل میں صرف ایک ہی جوہری مرکز کو فعال رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔

 تہران کی جانب سے اپنے تمام بین الاقوامی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کے مطالبے کے جواب میں، امریکا نے محض 25 فیصد اثاثوں تک نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ باقی اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔ امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران لبنان سمیت خطے کے تمام دیگر محاذوں پر جاری کشیدگی اور پراکسیز کی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کے لیے میز پر آئے۔

بین الاقوامی معاشی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی ان انتہائی سخت شرائط کے بعد اسلام آباد یا کسی بھی دوسرے مقام پر ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ایران کے لیے معاوضے کے بغیر اور اپنے جوہری پروگرام پر اتنی بڑی رعایت دینا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے