LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کی سفارش پنکی کیس میں بڑے بڑے نام ہیں، کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: شرجیل میمن کاروبار کا رجحان بڑھنے لگا، 3ماہ میں کمپنی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ شمالی امریکا کا سب سے بڑا مسافر ریل نظام ہڑتال کے باعث بند، لاکھوں مسافر پریشان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، ذوالحج کا چاند نظر آنے کے امکانات روشن پاکستان ریلوے کے ملازمین کے 21 ارب 36 کروڑ روپے واجبات، وزارت ریلوے اور خزانہ آمنے سامنے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا پی ٹی آئی کی رجسٹریشن مسترد کرنا امتیازی سلوک ہے: بیرسٹر گوہر  پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف  پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن مسترد، تحریک انصاف نے فیصلہ سیاسی انتقام قرار دے دیا جیٹ فیول سستا، کمرشل پروازوں کے کرایوں میں بڑی کمی کا امکان ہمیں قومی بیانیہ مضبوط ، دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہے: فیصل کریم کنڈی سٹی کورٹ؛ یونیورسٹیوں میں منشیات سپلائی کرنے والی ملزمہ انمول عرف پنکی 22 مئی تک پولیس ریمانڈ پر SIU کے حوالے حکومت کا فشریز مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا اعلان پانڈا بانڈ کا اجرا پاک چین مالیاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے، چینی چینل کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا اہم انٹرویو وزیراعظم کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

پنکی کیس میں بڑے بڑے نام ہیں، کسی کی پگڑی نہیں اچھالیں گے: شرجیل میمن

Web Desk

17 May 2026

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ “پنکی کیس” میں بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں، تاہم وہ کسی کا نام نہیں لیں گے اور اس معاملے میں کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت منشیات کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس نیٹ ورک کو نیست و نابود کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق منشیات فروشی کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، اس لیے اس ناسور کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کے استعمال کے شکار افراد کو خود اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ نشے کی لت میں مبتلا ہیں تاکہ ان کا مؤثر علاج ممکن بنایا جا سکے۔

سینئر وزیر نے مزید کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اداروں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ اس مسئلے پر بہتر طور پر قابو پایا جا سکے۔