LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی پر اظہار افسوس

پاکستان ریلوے کے ملازمین کے 21 ارب 36 کروڑ روپے واجبات، وزارت ریلوے اور خزانہ آمنے سامنے

Web Desk

16 May 2026

پاکستان ریلوے کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ وزارتِ ریلوے اور وزارتِ خزانہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو گئی ہیں۔ ادارے کے ملازمین کے مجموعی طور پر 21 ارب 36 کروڑ روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق مارچ 2023 کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کے واجبات بھی اب تک زیر التوا ہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کے 5 ہزار 578 گریجویٹی کلیمز کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم معاونت پیکج کے تحت 4 ہزار 135 کلیمز کی مد میں 7 ارب 52 کروڑ روپے ادا نہیں کیے گئے۔

اس کے علاوہ میرج گرانٹ کی مد میں 1 ارب 18 کروڑ روپے اور بینیوولنٹ فنڈ کی مد میں 1 ارب 52 کروڑ روپے کے بقایاجات بھی شامل ہیں۔ وزارتِ ریلوے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعدد بار درخواستوں کے باوجود وزارتِ خزانہ نے اضافی فنڈز جاری نہیں کیے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ 8 ارب 19 کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ کی سمری دسمبر 2025 سے زیر التوا ہے اور گزشتہ پانچ ماہ سے اسے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان ریلوے کا ریونیو 93 ارب روپے رہا جبکہ حکومت سے 64 ارب روپے کی گرانٹ حاصل کی گئی۔ اس کے باوجود واجبات کی عدم ادائیگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔