LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کے قومی دن پر صدر آصف زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، پاک-چین شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا اعادہ شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی زمبابوے: ہرارے کے قریب ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ سعودی ولی عہد کا کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

مندانا کریمی نے 16 سال بعد ایران واپسی کا اعلان کردیا

Web Desk

13 May 2026

’بگ باس‘ سیزن 9 سے شہرت پانے والی ایرانی نژاد بھارتی اداکارہ مندانا کریمی نے 16 سال بھارت میں گزارنے کے بعد اپنے آبائی ملک ایران واپس جانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اداکارہ کے اس اچانک اعلان نے بھارتی شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مندانا کریمی نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے جنگ کے خطرات کے تناظر میں یہ جذباتی فیصلہ کیا ہے۔

اداکارہ نے انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں انکشاف کیا کہ ممبئی میں ایک احتجاج میں شرکت کے بعد انہیں شدید سماجی مشکلات اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی قریبی دوستوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی، جس نے انہیں ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔ مندانا کریمی نے ایئرپورٹ سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے “گڈ بائے انڈیا” کہا اور بتایا کہ گزشتہ دو ماہ ان کی زندگی کے مشکل ترین اور تنہا ترین دن تھے، جہاں کسی نے ان کے موقف کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس احساسِ تنہائی سے نکل کر اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔