LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا: عباس عراقچی ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ امریکی اداکارہ سیلما بلیئر نے جہاز میں فضائی عملے کو مکے مارنے و کاٹنے پر معافی مانگ لی پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد، غریب، امیر کا معاشی فرق بڑھ گیا عالمی بینک کی سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری بھارتی تنقید مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت کم نہیں کر سکتی: ترک وزیر خارجہ

آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی

Web Desk

21 April 2026

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت اصلاحات کا عمل ایک نئے اور سخت مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن پر عملدرآمد کے لیے پاکستان نے باقاعدہ یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے بعد گزشتہ دو سالوں میں شرائط کی مجموعی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔ نئے معاہدے کے تحت بجٹ 2026-27 کی تیاری مکمل طور پر آئی ایم ایف کے اہداف کے مطابق کی جائے گی، جس میں مالی خسارے کو کم رکھنے اور معاشی شرح نمو (Growth) کا ہدف بھی کم مقرر کرنے کی شرط شامل ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 2027 تک اسپیشل اکنامک و ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور ٹیکس مراعات کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ 2035 تک تمام ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافے سمیت ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں اشیاء کی فروخت سے روکنے اور جون 2027 تک ’پاکستان ریگولیٹری رجسٹری‘ کے قیام کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے آڈٹ نظام کو مزید سخت اور مرکزی بنانے کے ساتھ ساتھ بغیر مقابلے کے سرکاری ٹھیکوں کے خاتمے کے لیے قوانین میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم، عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقم 14,500 سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کا اطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، پاکستان اب تک اس پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے اور ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط مئی کے اوائل میں ملنے کی توقع ہے۔