LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

Web Desk

21 April 2026

ایرانی قیادت کی جانب سے امریکہ کے سخت گیر رویے اور سفارتی دباؤ کے خلاف ایک بھرپور اور واضح موقف سامنے آیا ہے، جس میں مذاکرات کو دھمکیوں سے مشروط کرنے کی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے دوٹوک پیغام میں کہا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ٹرمپ کی خود فریبی ہے، اور ایران ایسے کسی بھی دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ قالیباف نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران میدانِ جنگ میں اپنی طاقت کے نئے جوہر دکھانے کے لیے بھرپور تیاری کر لی ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی مطالبات کو غیر حقیقی اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری ہی بحران کا واحد حل ہے۔ نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادے نے زور دیا کہ امریکہ کو اپنے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات ترک کر کے ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا، کیونکہ جنگ کا راستہ وہ پہلے ہی آزما چکا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ماضی کی غلطیاں دہرائیں تو ایران فیصلہ کن انتقامی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جوہری مواد کی بیرونِ ملک منتقلی جیسے مطالبات کبھی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی ہوں گے۔