LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

اقوام متحدہ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم بے نقاب، روس اور ڈنمارک کا پاکستان کے مؤقف کی تائید

Web Desk

22 November 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے بڑھتے ہوئے دہشت گرد عزائم پر عالمی برادری کو گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ ڈنمارک اور روس نے مشترکہ طور پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شدت پسند نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
روسی مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پھیلنے کا واضح خطرہ موجود ہے۔
خراسان صوبے میں داعش تیزی سے سرگرم اور نہایت خطرناک ہو رہی ہے۔مغربی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں سے مختلف دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال نے ان گروہوں کو مزید مؤثر اور خطرناک بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی سے وابستہ سینکڑوں گروہ سرگرم عمل ہیں، جو پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کو افغان حکام کی جانب سے عملی اور خاطر خواہ معاونت مل رہی ہے۔
افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشت گرد موجود ہیں جو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے بڑے حملوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں عالمی برادری نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ فوری اور مشترکہ عالمی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ خطے کو ممکنہ تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے۔