LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

مون سون میں کسی بھی جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی ہدایت

Web Desk

19 November 2025

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے حکومتی حکمتِ عملی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئندہ برس مون سون کے دوران کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ مون سون کے نقصانات سے بچنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیرِ اعظم نے پانی کے بہتر انتظام کے لیے نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کا بھی حکم دیا، تاکہ قومی سطح پر جامع منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے قلیل مدتی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کا حکم دیا۔اس موقع پر وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ہر تیسرے سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث جی ڈی پی کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قیمتی اور محدود وسائل ترقیاتی منصوبوں کے بجائے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے پر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جبکہ پاکستان کا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو آئندہ مون سون کے حوالے سے عالمی تخمینوں اور ممکنہ اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی۔