LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا

سعودی عرب کا ابراہیمی معاہدے میں دلچسپی، دو ریاستی حل کی حمایت ، محمد بن سلمان

Web Desk

18 November 2025

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ریاض خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے اور فلسطین و اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل سمیت ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا اور ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق بھی مثبت پیش رفت کی کوشش جاری رکھے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ابراہیمی معاہدے پر “بہت مثبت بات چیت” ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر پیش رفت ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ریاض ایف-35 لڑاکا طیارے بھی حاصل کرے گا، جو اسرائیل کی طرح سعودی عرب کے لیے بھی اہم قرار دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کے اپنے کردار کا حوالہ بھی دیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر نے شہزادہ محمد بن سلمان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے سعودی ولی عہد کو سلامی دی۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ عالمی امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور سعودی سرمایہ کاری مزید بڑھائی جائے گی۔

میڈیا بریفنگ کے دوران جب امریکی صدر سے جمال خاشقجی کے قتل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد اس واقعے سے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات میں محمد بن سلمان ’’قابلِ تحسین اقدامات‘‘ کر رہے ہیں اور امریکا سعودی عرب کو ایڈوانس چپس فراہم کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ شام سے متعلق معاملات میں ’’اہم پیشرفت‘‘ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے شام پر عائد کچھ پابندیاں ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔

دوسری جانب محمد بن سلمان نے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی خبر انتہائی افسوسناک تھی۔