LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت

اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شریک نہیں، برطانوی وزیر اعظم کا دوٹوک اعلان

Web Desk

2 March 2026

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں برطانیہ شریک نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسرائیل اور امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا حصہ بن رہا ہے۔

پارلیمنٹ میں جنگی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کا مؤقف واضح ہے اور وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔

وزیر اعظم نے امریکی صدر کی جانب سے برطانیہ کے مؤقف پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ذمہ داری قومی مفاد کا تحفظ ہے اور وہ اپنے فیصلوں پر قائم رہیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال میں عراق جنگ جیسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔

سر کئیر اسٹارمر کے مطابق برطانوی شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی لیے برطانوی جیٹ طیارے مربوط دفاعی اقدامات کیلئے فضا میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی اڈوں کی سہولت اس لیے فراہم کی گئی تاکہ میزائل داغنے والے مقامات اور لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔