اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شریک نہیں، برطانوی وزیر اعظم کا دوٹوک اعلان
Web Desk
2 March 2026
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں برطانیہ شریک نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسرائیل اور امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا حصہ بن رہا ہے۔
پارلیمنٹ میں جنگی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کا مؤقف واضح ہے اور وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
وزیر اعظم نے امریکی صدر کی جانب سے برطانیہ کے مؤقف پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ذمہ داری قومی مفاد کا تحفظ ہے اور وہ اپنے فیصلوں پر قائم رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال میں عراق جنگ جیسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔
سر کئیر اسٹارمر کے مطابق برطانوی شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی لیے برطانوی جیٹ طیارے مربوط دفاعی اقدامات کیلئے فضا میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی اڈوں کی سہولت اس لیے فراہم کی گئی تاکہ میزائل داغنے والے مقامات اور لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب
28 August 2026
اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
28 August 2026
مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش
28 August 2026
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور
28 August 2026
امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز
28 August 2026
ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا
28 August 2026
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت
28 August 2026
سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ
28 August 2026