LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت

برطانیہ کا تارکینِ وطن کے لیے سخت نئی پالیسیوں کا اعلان

Web Desk

17 November 2025

لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے لیے مستقبل پناہ کا نظام ختم کرنے اور رہائش کے دورانیے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے نئی امیگریشن پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی پناہ کا دورانیہ پانچ سال سے کم کرکے 30 ماہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقبل پناہ کا اسٹیٹس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں محفوظ واپسی تک عارضی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق درخواست منظور ہونے کے بعد پناہ گزینوں کو برطانیہ میں 30 ماہ قیام کی اجازت ملے گی۔ نئی پالیسی کے تحت وہ 20 سال بعد طویل المدتی رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ شرط پانچ سال تھی۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزین اسٹیٹس کی مدت بھی کم کر کے 30 ماہ مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ہے۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ “پناہ گزینوں کے لیے گولڈ ٹکٹ اب ختم ہو رہا ہے”، حکومت کا مقصد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچنے والوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔