LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار شہید عدالتی فیصلے خوش آئند ہیں، تناؤ کے خاتمے اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے: بیرسٹر گوہر پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس

خلیج فارس: امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین کی بھی انٹری

Web Desk

18 February 2026

خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین نے بھی اپنے بحری بیڑے تعینات کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

روسی صدارتی معاون کے ایک حالیہ انٹرویو کے مطابق روس اور چین، ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے۔ان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد دوست ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کی بحری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ خطے میں بڑی طاقتوں کی بحری موجودگی کو ماہرین جغرافیائی و سیاسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔