LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

امریکا نے ایران سے اشیاء خریدنے والے ممالک پر ثانوی ٹیرف عائد کردیا

Web Desk

7 February 2026


امریکا نے ایران سے اشیاء خریدنے اور تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ثانوی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں اور یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی تجارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت میں ملوث 15 اداروں، 2 افراد اور 14 بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو ایران کے ساتھ توانائی اور دیگر شعبوں میں تجارتی روابط رکھتے ہیں۔