LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف

Web Desk

24 October 2026

خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کا ایک اور بڑا مالی اسکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں 18 ارب 46 کروڑ روپے سے زائد کی سنگین مالی خورد برد اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ بے ضابطگیاں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) میں پیش آئیں۔ رپورٹ میں ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انتظامی کنٹرول کو اتنے بڑے مالی نقصان کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود کمپنی صنعتی مالکان سے لیز پر دی گئی اراضی کی مد میں 2 ارب 8 کروڑ 49 لاکھ روپے کی وصولی کرنے میں ناكام رہی، جبکہ نئی تجدید پالیسی پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے مزید 62 کروڑ 98 لاکھ روپے کا خسارہ ہوا۔

اس کے علاوہ، بونیر، مہمند اور جلوزئی میں اراضی واگزار نہ کرانے سے خزانے کو 1 ارب 7 کروڑ 74 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا، اور غیر قانونی طور پر کمرشل اراضی کو صنعتی مقصد کے لیے الاٹ کر کے 17 کروڑ 41 لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔ ہری پور میں ایک کمپنی سے الاٹ شدہ پلاٹوں کی مد میں 49 کروڑ 78 لاکھ روپے وصول نہیں کیے گئے۔ آڈٹ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کمپنی کے ممکنہ واجبات 14 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو اس کی آپریشنل صلاحیت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔