LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف دفاع پر مجبور ہوا، صدر مسعود پزشکیان ایران کے علاقے سیرک میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، ایرانی میڈیا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں مالی سال کا دوسرا اجلاس آج ہوگا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے آج عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا زیلنسکی کا توانائی تنصیبات پر جوابی حملوں کا بیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، کریملن ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: فیصل بن فرحان پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ

وانا کیڈٹ کالج پر دہشتگردوں کا حملہ، تمام طلبا، اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو، آپریشن حتمی مرحلے میں داخل

Web Desk

11 November 2025

پشاور: وانا کیڈٹ کالج پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے نہایت احتیاط اور حکمتِ عملی کے ساتھ آپریشن کرتے ہوئے تمام طلبا اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور تین افغان خوارجیوں کو کالج کے ایڈمن بلاک تک محدود کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے گزشتہ روز بارود سے بھری گاڑی کالج کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی تھی، جس کے نتیجے میں گیٹ منہدم ہوگیا اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم پاک فوج کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو موقع پر ہی ہلاک کردیا، جبکہ تیسرے حملہ آور کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے فون سے اہم فوٹیجز اور شواہد حاصل کرلیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور افغانستان میں موجود ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے۔

حملے کے وقت کیڈٹ کالج میں 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ اب تک 115 افراد کو بحفاظت نکالا جاچکا ہے جبکہ باقی کیڈٹس کالج کے اندر محفوظ ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے کالج اور اردگرد کے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فرار کو روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق فورسز والدین سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ پُر سکون رہیں کیونکہ تمام طلبا اور اساتذہ محفوظ ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن جامع انداز میں جاری ہے اور جلد مکمل کرلیا جائے گا۔