LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی سکیورٹی خدشات: شہزادہ ہیری نے دونوں بچوں کو اچانک سکول سے اٹھا لیا یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام ایران کا شرائط پوری ہونے تک امریکا سے مذاکرات سے پھر انکار تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اب ممکن نہیں رہا: ایرانی سپیکر سینٹ کام نے ایل گایا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا امریکیوں نے ایک دہشتگرد انتظامیہ قائم کر رکھی ہے: ایرانی صدر ایران کی تکنیکی اور معاشی مدد: امریکا کی روسی بینک پر پابندیاں عائد مریم نواز کو دوسرے صوبوں سے خطرہ، مجھے پنجابیوں سے خطرہ نہیں: سہیل آفریدی یمنی حوثیوں کا سعودیہ کے کنگ خالد ایئربیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کے 300 ارب خرچ کرنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دیئے

ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار

Web Desk

14 September 2026

امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ایک سخت گیر دھڑے نے ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کی اجازت کے بغیر جولائی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں طے پانے والا تاریخی امن معاہدہ سبوتاژ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب کیے گئے، جن میں قطر کے ایک ایل این جی (LNG) ٹینکر سمیت تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد واشنگٹن نے تہران کے خلاف دوبارہ شدید فضائی حملے اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، جس سے خطے میں جوابی کارروائیوں کا ایک نیا خطناک سلسلہ شروع ہو گیا۔

اخبار کے مطابق اس غیر مجاز کارروائی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو شدید برہم کر دیا، جو اس وقت سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں عراق میں موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان فوری تہران واپس پہنچے اور غصے میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ احمد وحیدی کو فون کر کے جواب طلبی کی۔ تاہم، احمد وحیدی نے اس حملے کی اجازت دینے یا اس کے بارے میں پیشگی علم ہونے سے صاف انکار کر دیا۔