LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

27ویں آئینی ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے متعدد ترامیم منظور

Web Desk

10 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ملکی آئین میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور اس کے دائرہ اختیار کو قانونی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
ترمیمات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
  • آرٹیکل 42 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی۔
  • آرٹیکل 63 اے میں لفظ “سپریم” کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کرنے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 68 میں پارلیمانی بحث کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کیا گیا۔
  • آرٹیکل 78 میں متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 81 کے دونوں پیراگراف میں آئینی عدالت کا اضافہ کیا گیا۔
  • آئینی عدالت سات ججز پر مشتمل ہوگی۔
  • آرٹیکل 93 میں وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 100 میں لفظ “سپریم” کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کی گئی۔
  • آرٹیکل 130 میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔
  • آرٹیکل 165 اے میں وفاقی آئینی عدالت کے نام کا اضافہ کیا گیا۔
  • آرٹیکل 175 کی تعریف میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا ذکر شامل کیا گیا۔
یہ ترامیم ملکی عدلیہ کے ڈھانچے میں ایک نیا باب کھولتی ہیں اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے آئینی معاملات میں عدلیہ کی شمولیت اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔