LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان

27ویں آئینی ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے متعدد ترامیم منظور

Web Desk

10 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ملکی آئین میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور اس کے دائرہ اختیار کو قانونی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
ترمیمات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
  • آرٹیکل 42 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی۔
  • آرٹیکل 63 اے میں لفظ “سپریم” کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کرنے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 68 میں پارلیمانی بحث کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کیا گیا۔
  • آرٹیکل 78 میں متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 81 کے دونوں پیراگراف میں آئینی عدالت کا اضافہ کیا گیا۔
  • آئینی عدالت سات ججز پر مشتمل ہوگی۔
  • آرٹیکل 93 میں وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کی ترمیم منظور۔
  • آرٹیکل 100 میں لفظ “سپریم” کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کی گئی۔
  • آرٹیکل 130 میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔
  • آرٹیکل 165 اے میں وفاقی آئینی عدالت کے نام کا اضافہ کیا گیا۔
  • آرٹیکل 175 کی تعریف میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا ذکر شامل کیا گیا۔
یہ ترامیم ملکی عدلیہ کے ڈھانچے میں ایک نیا باب کھولتی ہیں اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے آئینی معاملات میں عدلیہ کی شمولیت اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔