LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ملک میں مہنگائی ایک سال کی بلند ترین سطح پر، شرح 6.24 فیصد تک پہنچ گئی

Web Desk

3 November 2025

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک میں مہنگائی نے ایک بار پھر عوام کی مشکلات بڑھا دیں اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 6.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔ صرف اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی میں 1.83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ حکومت نے اس دوران مہنگائی کا تخمینہ 5 سے 6 فیصد کے درمیان لگایا تھا۔

اعدادوشمار کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 6.6 فیصد رہی۔ اکتوبر میں سب سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ ٹماٹر، پیاز، سبزیوں، آٹے، گندم اور انڈوں کی قیمتوں میں دیکھا گیا۔

  • ٹماٹر کی قیمتوں میں 58 فیصد، جبکہ پیاز میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔
  • سبزیوں کی قیمتیں 22 فیصد، گندم 10.5 فیصد اور آٹا 5.5 فیصد تک مہنگا ہوا۔
  • انڈوں میں 22 فیصد، مچھلی میں 4 فیصد اور آلو 2.6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
  • پھل، مکھن، گھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔

دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ زندہ برائلر مرغی 21.51 فیصد تک سستی ہوئی، جبکہ آلو، بیسن، دال چنا، دال مسور، مونگ، مشروبات اور شہد کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ موسم، رسد میں کمی اور ٹرانسپورٹیشن لاگت بڑھنے کے باعث سامنے آیا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے رجحان کا دارومدار حکومتی اقدامات اور سپلائی چین کی بہتری پر ہوگا۔

مہنگائی کے یہ تازہ ترین اعداد و شمار عوام کے لیے تشویشناک اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔