LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

استنبول اجلاس: غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری

Web Desk

3 November 2025

استنبول میں غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس کے بعد ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کا نظم و نسق فوری طور پر فلسطینی عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ:

  • اسرائیل جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
  • کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کو بلاتعطل غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
  • خطے میں پائیدار امن کا قیام فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور اُن کی قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
  • غزہ کا سیاسی و انتظامی کنٹرول کسی بیرونی طاقت نہیں بلکہ مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔
  • غزہ میں ایک غیرجانبدار امن فورس تشکیل دی جائے جو فیلڈ میں امن کی نگرانی اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، اور حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر مشاورت تھا۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، اور مکمل فریم ورک تیار ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اجلاس نہ صرف غزہ کے بحران کے حل کی طرف ایک اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ عالمی مؤقف کی مضبوطی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔