LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے روزانہ 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے، امریکی وزیر توانائی ترکیہ نے نئے معاشی منصوبے کے تحت دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافہ کر دیا عظیم ادیب، باکمال مفکر، روشن فکر رہنما اشفاق احمد کو بچھڑے 22 برس بیت گئے ایران کا آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے باہر نیا محدود زون قائم کرنے کا اعلان کراچی میں مزار قائد کے اطراف جلسے پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان بھارت میں قدیم مسجد مسمار: پاکستان کا شدید احتجاج، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وزیراعظم کا پاک فضائیہ کیلئے پیشہ ورانہ کامیابی اور ترقی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار وطن کی فضاؤں کے محافظ پوری قوم کا فخر، ملک بھر میں یوم فضائیہ آج منایا جارہا ہے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ ختم کرنے کیلئے اصلاحات ناگزیر: فاروق ستار غزہ میں ماہرین پر مشتمل فلسطینی حکومت قائم کی جارہی ہے، جیرڈ کشنر مطالبات نہ مانے گئے تو حکومت گراؤ تحریک چلائیں گے: حافظ نعیم الرحمان نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 3 افراد ہلاک، 50 سے زائد ملبے تلے دب گئے کندھ کوٹ میں مسافر کوچ الٹ گئی،6 افراد جاں بحق، متعدد زخمی روس، یوکرین اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی: زیلنسکی بھارت کیخلاف کامیابی کے بعد دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت سے آگاہ ہو چکی: مصطفیٰ کمال

استنبول اجلاس: غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری

Web Desk

3 November 2025

استنبول میں غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس کے بعد ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کا نظم و نسق فوری طور پر فلسطینی عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ:

  • اسرائیل جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
  • کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کو بلاتعطل غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
  • خطے میں پائیدار امن کا قیام فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور اُن کی قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
  • غزہ کا سیاسی و انتظامی کنٹرول کسی بیرونی طاقت نہیں بلکہ مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔
  • غزہ میں ایک غیرجانبدار امن فورس تشکیل دی جائے جو فیلڈ میں امن کی نگرانی اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، اور حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر مشاورت تھا۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، اور مکمل فریم ورک تیار ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اجلاس نہ صرف غزہ کے بحران کے حل کی طرف ایک اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ عالمی مؤقف کی مضبوطی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔