LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی وزارت خارجہ عراق کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور chile-festival-tragedy-car-plows-into-crowd-fatalities-injuries چلی: فیسٹیول کے دوران ڈرائیور نے گاڑی لوگوں پر چڑھا دی، 6 افراد جاں بحق، بچوں سمیت 7 زخمی کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش وزیراعظم کا 13 جولائی 1931ء کے 22 کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں عباس عراقچی سے نمائندہ اقوام متحدہ کی ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو پاکستان کی میزبانی میں 2 روزہ او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کا پہلا روز او آئی سی نے بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا پاک سعودیہ تعلقات امتِ مسلمہ کی قوت کا سرچشمہ ہیں: مولانا فضل الرحمان ایران نے آبنائے ہرمز کو ایٹم بموں سے زیادہ ضروری قرار دے دیا سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ کے انتقال پر آج پاکستان میں بھی یومِ سوگ کا اعلان پاکستان کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہارِ تشویش، تحمل اور سفارت کاری پر زور ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ’بیمار ذہنیت‘ کا حامل قرار دے دیا

بچوں کا تحفظ اور تعلیم تک رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے: صدر، وزیراعظم

Web Desk

12 June 2026

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن” (World Day Against Child Labour) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے، بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے اور انہیں تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے پختہ قومی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں قائدین نے واضح کیا کہ بچوں کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینِ پاکستان کی بنیادی شقوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا آئین کا آرٹیکل 11 ملک میں ہر قسم کی غلامی، جبری مشقت (Bonded Labour) اور بچوں کو کسی بھی خطرناک نوعیت کے کاموں یا ملازمتوں پر رکھنے کی سخت ممانعت کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائے۔

صدر آصف زرداری نے چائلڈ لیبر کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محنت مزدوری میں پھنسے بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا مستقبل اور خاندانوں کی معاشی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر قوانین کے مؤثر نفاذ پر زور دیتے ہوئے والدین، اساتذہ، آجرین، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں کیونکہ کسی بھی معاشرے کا معیار وہاں بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے ہی جانچا جاتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں بتایا کہ اس سال یہ دن “بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار” کے عالمی عنوان (Theme) کے تحت منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے ہولناک عالمی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ:”انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق، آج بھی دنیا بھر میں 13 کروڑ 80 لاکھ بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ ایک عالمی المیہ ہے”۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی مستقبل کی افرادی قوت (بچوں) کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر ہوتا ہے۔ حکومتی ترجیحات میں باوقار روزگار کا فروغ اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ سرفہرست ہے۔

صوبائی حکومتوں کے قانونی اور انتظامی اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے  اہم اقدامات کا ذکر کیا تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی سطح پر خصوصی نگرانی کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں جو چائلڈ لیبر کی روک تھام کی مانیٹرنگ کرتی ہیں۔قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی بحالی و معاونت یونٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ محروم بچوں کو دوبارہ تعلیم اور محفوظ ماحول کی طرف لایا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، آجروں اور محنت کشوں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔