LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

واشنگٹن پوسٹ: 2025 میں پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلی، پاکستان کو فوقیت حاصل

Web Desk

22 December 2025

واشنگٹن پوسٹ کے تازہ آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کو پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون بنایا گیا، جبکہ بھارت کو فوقیت دینے کا دور ختم ہو گیا۔

آرٹیکل کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں پہلا مثبت موڑ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم تعاون سے آیا، اور مارچ میں ٹرمپ نے پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی جس نے واشنگٹن میں پالیسی کا رخ بدل دیا۔ مئی کی مختصر مگر شدید پاک بھارت جھڑپ کے بعد پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے امریکی قیادت کو حیران کر دیا اور پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹرمپ کے انر سرکل میں اہم مقام حاصل کر گئے، ان کے لیے “Disciplined Dark Horse” اور “Deliberate Mystery” جیسے القابات دیے گئے، اور وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ کے لیے یہ پہلی بار ہوا کہ کسی پاکستانی ملٹری ہیڈ کو ریڈ کارپٹ استقبال ملا۔

آرٹیکل میں کہا گیا کہ 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے، اور ایران، غزہ اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار کو اہم قرار دیا گیا۔ واشنگٹن میں India-first پالیسی کا دور ختم ہو چکا ہے اور نئی امریکی پالیسی کی پائیداری اسلام آباد اور دہلی کے رویے سے مشروط ہے۔