LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی

پٹیالہ گھرانے کے نامور فنکار استاد امانت علی خان کو دنیا چھوڑے 52 برس بیت گئے

Web Desk

17 September 2026

کلاسیکی موسیقی اور غزل گائیکی کے عظیم نام ور استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 52 برس بیت گئے۔ پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز فنکار استاد امانت علی خان 1932ء میں شام چوراسی کے پٹیالہ خاندان میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگراموں سے اپنی گائیکی کا آغاز کیا اور انتہائی مختصر عرصے میں اپنے ہم عصروں جن میں مہدی حسن اور غلام علی شامل ہیں، کے درمیان اپنا ایک منفرد اور ممتاز مقام بنا لیا۔

استاد امانت علی خان نے ‘انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو’، ‘موسم بدلا رت گدرائی’ اور ‘ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے’ جیسے متعدد لازوال گیت اور غزلیں گائیں جو آج بھی شائقینِ موسیقی میں بے پناہ مقبول ہیں۔ ان کی موسیقی کی دنیا کے لیے شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی سمیت کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ استاد امانت علی خان 17 ستمبر 1974ء کو محض 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی نسل جن میں ان کے فرزند شفقت امانت علی اور رستم فتح علی خان شامل ہیں، نے کلاسیکی گائیکی کے اس خوبصورت سلسلے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔