LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق سرکاری حج سکیم: دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ میں ایک روز کی توسیع نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ، اضافی ٹیکس کی تجویز اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم اسحاق ڈار سے صدر مالدیپ کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش مدینہ منورہ اور مشرقی علاقوں کی جانب آنیوالے 5 ڈرونز تباہ کر دیئے: سعودی فوجی اتحاد ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنے کی پیشگوئی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں: عباس عراقچی

آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر

Web Desk

23 September 2026

ایران نے آبنائے ہرمز سے اپنے طے کردہ قواعد اور اجازت ناموں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ کے مطابق، مقررہ ضوابط پر پورا نہ اترنے والے جہازوں پر ان کے لادے گئے سامان کی مجموعی مالیت کا 20 فیصد بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے بتایا کہ کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ نئے قانون کی اہم شقوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان شقوں کے تحت خلاف ورزی کے مرتکب تجارتی جہازوں سے نہ صرف جرمانہ وصول کیا جائے گا بلکہ جرمانے کی مکمل ادائیگی تک انہیں عارضی طور پر ایرانی تحویل میں رکھنے کی قانونی اجازت بھی ہوگی۔ ترجمان کے مطابق نئی شقوں کا مقصد اس اہم ترین بحری گزرگاہ پر ایران کے طے شدہ قوانین پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

یہ سخت اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی انتہائی نچلی سطح پر آ چکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، 21 ستمبر کو محض دو بڑے تجارتی جہاز ہی اس راستے سے گزرے، جبکہ حالیہ تنازع کی شروعات سے قبل روزانہ اوسطاً 125 بڑے تجارتی جہاز اس گزرگاہ کو استعمال کرتے تھے۔ واضح رہے کہ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں کو تیل اور انرجی مصنوعات کی فراہمی کے لیے آبنائے ہرمز دنیا کا حساس ترین سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔