LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برنی سینڈرز نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیدیا معاشی بحران اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی: امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کو بڑی برتری کا امکان توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت کے نئے رولز 2026 نافذ جنرل اسمبلی اجلاس، ایرانی صدر کی سکیورٹی امریکی سیکرٹ سروس کے سپرد صدر پوتن، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، کریملن لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی پاکستان کےنئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بیرونی قرضوں میں 23 فیصد اضافہ افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات محسن نقوی کی سربراہ پاسداران انقلاب سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی

توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت، وفاقی حکومت کے نئے رولز 2026 نافذ

Web Desk

23 September 2026

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نظام میں شفافیت لانے اور قواعد کو مزید سخت کرتے ہوئے ‘توشہ خانہ منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026’ کے نفاذ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ان نئے قواعد کے تحت وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے علاوہ دیگر تمام سرکاری عہدیداران کے لیے بیرونِ ملک یا سفارتی سطح پر تحائف وصول کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

نئے ضوابط کے مطابق توشہ خانہ میں جمع شدہ اور آئندہ موصول ہونے والے تمام تحائف کی کھلی عوامی نیلامی کی جائے گی، جبکہ اس نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم ملک کے پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم اور بہبود پر خرچ کی جائے گی۔ تاہم ثقافتی، تاریخی اور سفارتی حساسیت کے حامل تحائف کو نیلامی سے استثنیٰ حاصل ہو گا اور انہیں محفوظ رکھا جائے گا۔ نیلامی کا انعقاد سال میں کم از کم ایک بار لازمی اور ترجیحاً دو مرتبہ کیا جائے گا، جبکہ اس عمل کی براہِ راست میڈیا کوریج بھی کی جائے گی۔ اہم امر یہ ہے کہ سرکاری عہدیداران اور ان کے اہلخانہ اس نیلامی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے اور کسی سیٹ کی صورت میں موجود تحفے کو الگ الگ کر کے فروخت نہیں کیا جائے گا۔

تحائف کی قدر اور نیلامی کا فیصلہ کرنے کے لیے سیکریٹری کابینہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹریز شامل ہوں گے۔ اگر سفارتی آداب کے باعث تحفہ وصول کرنا ناگزیر ہو تو اسے 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا، جبکہ بیرونِ ملک دورے سے واپسی پر بھی 30 دن کی مہلت دی جائے گی۔ الگ جہاز سے آنے والے تحائف کے لیے 60 دن کی مہلت مقرر کی گئی ہے، تاہم گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین کو نقد انعام اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہوگی۔

تحائف کی مارکیٹ ویلیو کا تعین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور نجی تخمینہ کار کریں گے، اور دونوں کے تخمینوں میں 25 فیصد سے زائد فرق پر تیسرے ماہر کی رائے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد لی جا سکے گی، جبکہ اسلحے کی قیمت پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF) واہ طے کرے گی۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے پر عدالت میں قانونی شکایت درج کی جائے گی۔ نئے نظام کے تحت تمام تحائف کا تمام تر ریکارڈ اور تصاویر پورٹل پر عام کی جائیں گی، تاہم سفارتی حکمتِ عملی کے تحت تحفہ دینے والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔