LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مزید جنگی جہاز نہ بھیجا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے: امریکی جنرل آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، بائیکاٹ کی تجاویز مسترد کر کے میدان میں رہیں گے: ندیم افضل چن ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید

ٹرمپ نے اختیارات سے تجاوز کیا،امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف اقدامات کالعدم قراردے دیئے

Web Desk

20 February 2026

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کے حوالے سے  اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عالمی میڈیارپورٹس  کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ  امریکی صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیارنہیں دیتا۔ امریکا کے ساتھ تجارت کرنے والے تقریباً ہر ملک پر عائد کیے جانے والے ’نام نہاد باہمی محصولات‘ غیر قانونی طور پر عائد کیے جا رہے ہیں۔

گیارہ ججز پر مشتمل عدالتی بینچ نے اپنے 7-4 کے فیصلے میں ماتحت عدالت کے اس فیصلے کی حمایت کی کہ ٹرمپ کے پاس عالمی محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔یہ فیصلہ مئی میں دیے گئے کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے اُس فیصلے کی توثیق کرتا ہے جس میں ٹرمپ کا یہ مؤقف مسترد کر دیا گیا تھا کہ ان کے عالمی ٹیرف اقتصادی ایمرجنسی ایکٹ کے تحت قانونی ہیں۔

اس فیصلے سے وہ ٹیرف متاثر ہوں گے جو اپریل میں ٹرمپ کے اُس اعلان کے بعد لگائے گئے تھے جس کے تحت ہر ملک کی درآمدات پر یکساں 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس سے امریکہ کے ساتھ ’غیر منصفانہ‘ تجارتی تعلقات کو متوازن کیا جائے گا۔

امریکی کورٹ آف اپیلز نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ محصولات کی اجازت ان کے ہنگامی معاشی اختیارات کے تحت دی گئی تھی۔ یادرہے کہ امریکی صدر نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے لیے ایک بڑا عدالتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم ہتھیار سمجھے جاتے تھے۔ ماہرین کاکہناہے کہ فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے،فیصلے نے یہ نئی حدبھی  مقرر کردی کہ امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کرسکتے ہیں ۔