LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مال بردار جہاز پر فائرنگ، 11 ہزار ملاحوں کا انخلا روک دیا گیا وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران

ایرانی سپریم لیڈر کے مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے اشارے ملے ہیں: روبیو

Web Desk

3 June 2026

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں ایسے واضح اشارے ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر اب زیادہ فعال (ایکٹو) کردار ادا کر رہے ہیں اور مذاکرات کے عمل میں انہوں نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق، امریکی قانون سازوں سے اہم گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ‘آبنائے ہرمز’ کو جہاز رانی کے لیے کھولنا پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران افزودہ یورینیم سے دستبردار ہو جاتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر اہم معاملات کو طے کرنے پر رضا مند ہوتا ہے، تو اس کے بعد ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائی جا سکتی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے جاری سفارتی عمل کے حوالے سے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی مارکو روبیو کے مطابق، ایران کے ساتھ موجودہ بات چیت میں جوہری پروگرام کے ایسے پہلو اور شقیں بھی زیرِ بحث آ سکتی ہیں جن پر تہران ماضی میں کسی بھی قسم کی گفتگو کرنے سے صاف انکار کرتا رہا ہے۔امریکی انتظامیہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ایران کے روایتی مؤقف میں اب بعض مخصوص معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے

ایرانی رویے میں تبدیلی کے باوجود، امریکی وزیرِ خارجہ نے کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے حوالے سے محتاط انداز اپنایا ہے:

“اس بات کی کوئی بھی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ایران کے ساتھ جاری یہ مذاکرات بالآخر کسی ایسے حتمی معاہدے پر منتج ہوں گے جو امریکا کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہو۔ کسی بھی حتمی اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔”

جغرافیائی سیاسی ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی چینلز اب بھی متحرک ہیں۔