“ایران پر حملہ نہ کرتے تو ان کے پاس ایٹم بم ہوتا”، صدر ٹرمپ کا تہران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
Web Desk
5 March 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا۔ ایرانی قیادت کا تیزی سے خاتمہ کررہے ہیں۔ وہاں جو لیڈربننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے۔ ایران پر حملے جاری رہیں گے۔ ٹرمپ کا راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا ایران کے میزائلوں اور لانچروں کو تباہ کررہے ہیں، جنگی محاذ پر ہماری کارکردگی بہت اچھی ہے اور صورتحال توقع سے بھی بہتر ہے، ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا، اور جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیزیں ہوتی ہیں۔ امریکی صدر نے الزام لگایا کہ ایران پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنارہا ہے، ہم نے ایران میں 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا۔ امریکی صدر نے سابق صدراوباما کی ایران سے جوہری ڈیل پر بھی تنقید کی۔ ادھر وہائٹ ہاؤس کا نے کہا کہ امریکی صدر جانتے ہیں کہ ایران جنگ پر انہیں امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، وہائٹ ہاؤس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسپین امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے رضامند ہے۔۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی
20 April 2026
جنگ کسی کے فائدے میں نہیں، کشیدگی کم کرنےکیلیےسفارتی طریقہ ضروری ہے، پزشکیان
20 April 2026
ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر
20 April 2026
مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ
20 April 2026
مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ
20 April 2026
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم
20 April 2026
امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس
20 April 2026
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات
20 April 2026