LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز بھیجنا ملکی خود مختاری، سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا چینی صدر 3 روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ریڈ کارپٹ استقبال، توپوں کی سلامی آبنائے ہرمز میں ایک اور مال بردار بحری جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم امریکی فوج کی دوحہ میں حاضرسروس فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملے، 4 فلسطینی شہید اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو معاشی طور پر بھی تباہ کرنا شروع کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں کار حادثہ، امریکا میں تعینات اسرائیلی سفیر کا فوجی بیٹا شدید زخمی یورپی یونین کا روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر زور وزیراعظم کی یورپی کونسل و یورپی کمیشن کے صدور کو دورہ پاکستان کی دعوت شہباز شریف سے ملاقات میں پاکستان میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال ہوا، ایم ڈی آئی ایم ایف گورنر خیبر پختونخوا نے کابینہ سے منظور پولیس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیدیا پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر مقدمہ درج یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا لاہور میوزیم کا دورہ، تاریخی اہمیت، ثقافتی ورثے بارے بریفنگ کون بنے گا آزاد جموں و کشمیر کا صدر؟ انتخاب آج ہوگا

گورنر خیبر پختونخوا نے کابینہ سے منظور پولیس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیدیا

Web Desk

24 September 2026

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے نئے پولیس ایکٹ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی یہ ترمیم شدہ ایکٹ ان کے پاس دستخط کے لیے آئے گا، وہ اسے ہرگز منظور نہیں کریں گے بلکہ اس پر آئینی و قانونی اعتراضات عائد کرکے واپس بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ چاہے گورنر کا ہو یا وزیراعلیٰ کا، کسی کو بھی آئین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط اقدام اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور صوبائی پولیس فورس کو اپنے سیاسی تابع بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کا ماضی میں یہ بیانیہ رہا ہے کہ پولیس کو غیر سیاسی ہونا چاہیے، مگر اب وہی حکومت پولیس کو اپنا سیاسی غلام بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ گورنر کے مطابق، اگر صوبے میں آئینی بحران اور امن و امان کی صورتِ حال اسی طرح خراب ہوتی رہی تو وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت آئین کے تحت گورنر راج نافذ کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کر سکتے ہیں۔