LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری پاکستان اور ایران کا برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ فیلڈمارشل سے ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا برطانوی وزیراعظم کے بعد لتھوانیا کی وزیراعظم بھی اچانک مستعفی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچ گئے، پرتپاک استقبال ایران۔امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، تاہم مفاہمتی یادداشت دیرپا اور پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے والے 572 شرپسند گرفتار، پولیس اہلکار کی لاش پر رقص کیا گیا، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی پریس کانفرنس ایرانی صدر اسلام آباد کیلئے روانہ، پاکستان کی کوششیں قابل ذکر تھیں: مسعود پزشکیان عالمی معائنہ کاروں کو جوہری مقامات کا دورہ کرانے کا ارادہ نہیں: اسماعیل بقائی

ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر، چار ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ

Web Desk

23 June 2026

سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں، جس کے بعد اب اگلا مرحلہ دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح کی سیاسی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وفد کے سربراہ اور نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق، ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تیکنیکی تفصیلات کو حتمی شکل دینا تھا اور اب یہ عمل اپنے اگلے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

مذاکرات کاروں نے دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے معطل تصفیہ طلب امور اور تیکنیکی تفصیلات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے 4 مستقل ورکنگ گروپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

جو ایران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹانے کے طریقہ کار کا جائزہ لے گا۔جو ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور یورینیئم کی افزودگی کی شرح کم کرنے کی نگرانی کرے گا۔ جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور ترقیاتی امور کو دیکھے گا۔ جو معاہدے کی شرائط پر دونوں اطراف سے مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران خطے میں طویل بدامنی کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ گیا اور اس نے بہت کچھ حاصل کیا۔ اس سلسلے میں طے پانے والے بڑے ریلیف میں  امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی فروخت پر عائد پابندی کو 60 روز کے لیے عارضی طور پر ختم کر دیا ہے، جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ بحری تجارت کو بحال کرنے کے لیے امریکہ نے تزویراتی آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔پاکستان اور قطر کی مخلصانہ اور مشترکہ ثالثی کوششوں کے نتیجے میں لبنان میں جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک باقاعدہ سیکیورٹی میکانزم طے پا گیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک جامع اور حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مجموعی طور پر 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے دوران یہ ورکنگ گروپس تمام امور کو حتمی شکل دیں گے۔