LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی ایران نے شمالی عراق کے کرد علاقے سے ملحق دو سرحدی گزر گاہیں بند کر دیں ایران کے شمالی عراق میں کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر حملے اربیل میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانے کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکا نے دنیا بھر میں اپنے شہریوں کیلئے سفری الرٹ جاری کردیا امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کا آغاز، تہران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، سینٹ کام کا باضابطہ اعلان اردن حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ گئی، پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم، روسی میڈیا کا دعویٰ انمول عرف پنکی کا بھائی منشیات سمیت گرفتار ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کو تباہ کر کے امن کی بات کر رہے ہیں، ایرانی سفیر امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ

اردن حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ گئی، پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم، روسی میڈیا کا دعویٰ

Web Desk

18 July 2026

روسی میڈیا نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں قائم فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو پوری شدت کے ساتھ ایران پر بمباری کرنے کا حتمی حکم دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس واقعے پر اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے اردن میں پیش آنے والے واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس سنگین صورتحال کو دیکھ کر انہیں بے حد دکھ پہنچا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ایک بار پھر اپنے پرانے عزم کو دہرایا کہ وہ تہران کو کسی بھی قیمت پر نیوکلیئر (جوہری) ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران طے شدہ سفارتی ڈیل اور مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، تو پھر امریکا کو بھی اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ٹرمپ کے اس مبینہ حکم کے بعد مڈل ایسٹ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔