ایران پر حملہ امریکی مفاد میں تھا یا نہیں؟ امریکا میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
Web Desk
5 March 2026
ایران پر حالیہ حملے کے بعد امریکا میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ کارروائی واقعی امریکی قومی مفاد میں تھی یا اس کے پس منظر میں دیگر عوامل کارفرما تھے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بعض سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ یکطرفہ حملے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہو۔
امریکی سینیٹر الزبیتھ وارن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل گزشتہ چار دہائیوں سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہیں اسرائیل اس معاملے میں قائل کرنے میں کامیاب رہا۔
سینیٹر الزبیتھ وارن نے مزید کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ عوام کی توجہ ایپسٹین فائلوں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکا میں ایران سے متعلق اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں اس اقدام کے اثرات اور اس کے حقیقی مقاصد پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر
18 April 2026
واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو
18 April 2026
خلیج میں لنگرانداز جہاز حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ
18 April 2026
ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا
18 April 2026
ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی
18 April 2026
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل
18 April 2026
امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ
18 April 2026
آبنائے ہرمز کے انتظام پر مکمل اختیارہے، ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں، ایرانی نائب صدر
18 April 2026