ایران پر حملہ امریکی مفاد میں تھا یا نہیں؟ امریکا میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی
Web Desk
5 March 2026
ایران پر حالیہ حملے کے بعد امریکا میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لے لیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ کارروائی واقعی امریکی قومی مفاد میں تھی یا اس کے پس منظر میں دیگر عوامل کارفرما تھے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بعض سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ یکطرفہ حملے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہو۔
امریکی سینیٹر الزبیتھ وارن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل گزشتہ چار دہائیوں سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہیں اسرائیل اس معاملے میں قائل کرنے میں کامیاب رہا۔
سینیٹر الزبیتھ وارن نے مزید کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ عوام کی توجہ ایپسٹین فائلوں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکا میں ایران سے متعلق اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں اس اقدام کے اثرات اور اس کے حقیقی مقاصد پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، شہباز شریف کا خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار
21 July 2026
کویت نے آئل ٹینکر پر حملے کے خلاف ایرانی سفیر کو طلب کرلیا
21 July 2026
نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کی تارکینِ وطن کے لیے جعل سازوں کے حوالے سے الرٹ جاری
21 July 2026
بحری ناکہ بندی کے دوران 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، ایک ناکارہ بنا دیا: سینٹ کام
21 July 2026
قطر کا حملوں سے نقصانات کے ازالے کیلئے ایران سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ
21 July 2026
ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ
21 July 2026
امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی
21 July 2026
برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا
21 July 2026