LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں رکوانے کا مطالبہ سعودی و کویتی وزرائے خارجہ کی حوثی حملوں اور دھمکیوں کی مذمت یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران لاہور: مضرِ صحت دودھ پینے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق، ایک کی حالت تشویشناک روس امریکی تجاویز سننے کیلئے تیار، لیکن سیاسی رعایتیں نہیں دیں گے: سرگئی لاوروف پوتن اور امریکی حکام کی جلد ملاقات متوقع، روس کا جوہری تخفیف اسلحہ پر مذاکرات بحال کرنے پر زور حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا حملہ کرکے بچ نکلنے کا دور ختم ہوچکا، جارحیت کا بھرپور جواب دینگے: ایران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی راؤل کاسترو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر روس کی امریکا پر شدید تنقید روس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دبئی ایئرپورٹ پر پانچ سیکنڈ میں امیگریشن کلیئرنس، ریڈ کارپٹ منصوبے کو ایوارڈ دینے کا اعلان

برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان

Web Desk

21 October 2026

برطانیہ نے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں سے سعودی عرب کے انفراسٹرکچر اور اہم قومی تنصیبات کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹائفون (Typhoon) لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، رائل ایئر فورس (RAF) کے یہ جدید لڑاکا طیارے سعودی شہروں، دفاعی مقامات اور معاشی تنصیبات کے تحفظ کے لیے خصوصی فضائی پیٹرولنگ اور دفاعی مشنز انجام دیں گے۔ برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے طویل المدتی اتحادی سعودی عرب کی فضائی حدود کو حوثیوں کی متواتر جارحیت سے بچانا اور علاقائی استحکام قائم رکھنا ہے۔

تاہم، سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر برطانوی حکومت نے سعودی عرب میں بھیجے جانے والے ٹائفون جیٹس کی کل تعداد، ان کے لیے مخصوص اڈے (Airbases) اور دفاعی مشنز کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ سے متعلق معلومات کو فی الحال پوشیدہ رکھا ہے