LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
 آبنائے ہرمز کے انتظام پر مکمل اختیارہے، ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں، ایرانی نائب صدر آبنائے ہرمزکی بندش، خلاف ورزی پر بھارتی آئل ٹینکر پرفائرنگ، واپس جانے پرمجبور اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہیں ہواتوجنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، امریکی صدر ایران کے 6ایئرپورٹس کھل گئے، فضائی حدود50روزبعد جزوی بحال ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب

ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے نام جاری

Web Desk

16 January 2026

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔
میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ بورڈ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر ہوئے، جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ کا حصہ ہیں۔
غزہ بورڈ آف پیس ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے اور یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں اصلاحات کی راہ ہموار کرے گا۔