LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان وزیراعظم اور ترک صدرکی ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم پاکستان کاشکریہ، وزیراعظم اور فیلڈمارشل زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدرکا آبنائے ہرمز مکمل کھولنے پر ایران کا شکریہ، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان آبنائے ہرمزکھلنے کے ثمرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی انطالیہ میں وزیراعظم سے امریکی صدرکے سینئر مشیرکی ملاقات پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر نےآبنائے ہرمز عبورکرلی، امریکی جریدے کی رپورٹ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے: پاور ڈویژن کا دعویٰ صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں امن مذاکرات پر زور فیصل کریم کنڈی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم، صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی تعریف

سڈنی میں دہشتگردی، پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

15 December 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، واقعے کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے پاکستانی حکام نے شدید مسترد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کے کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ اگر یہ افراد واقعی پاکستانی ہوتے، تو ان کے خاندان یا دیگر متعلقہ معلومات پاکستان میں دستیاب ہوتیں، جو کہ موجود نہیں۔اسرائیلی اخبار یروشلم اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے منظم ایجنڈے کے تحت الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جبکہ حقیقت میں ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے اور 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیلی ہوئی۔ آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے ممبر ہیں، جس کی وجہ سے ان سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے بتایا جاتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ کی تکنیک افغان طالبان کے مشہور طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا ایک مرکز بن چکا ہے۔پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان کو غلط طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔