LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

سڈنی میں دہشتگردی، پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

15 December 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، واقعے کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے پاکستانی حکام نے شدید مسترد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کے کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ اگر یہ افراد واقعی پاکستانی ہوتے، تو ان کے خاندان یا دیگر متعلقہ معلومات پاکستان میں دستیاب ہوتیں، جو کہ موجود نہیں۔اسرائیلی اخبار یروشلم اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے منظم ایجنڈے کے تحت الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جبکہ حقیقت میں ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے اور 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیلی ہوئی۔ آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے ممبر ہیں، جس کی وجہ سے ان سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے بتایا جاتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ کی تکنیک افغان طالبان کے مشہور طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا ایک مرکز بن چکا ہے۔پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان کو غلط طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔