LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی کڑی تنقید؛ “ہزاروں کا قتل کرنے والے حقِ حکمرانی کھو چکے یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: سربراہ پاسداران انقلاب گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہے: وزیراعظم وزیراعظم سے اقوام متحدہ کی سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ جدید جوڈیشل ٹاور منصوبے کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم کل سنگِ بنیاد رکھیں گی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور مسماری کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف، بجلی کے بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ؛ ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالرز کی منظوری سعودیہ اور کینیڈا کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کے ٹو ائیرویز طیارہ حادثہ؛ اورماڑہ کے قریب گہرے سمندر میں ریسکیو آپریشن تیز، لاپتہ عملے کی تلاش جاری یورپ میں گرمی، سپین کے جنگلات میں آگ لگ گئی، 12 افراد ہلاک ٹیکساس میں پاکستانی آموں کی دھوم؛ ہیوسٹن مینگو فیسٹیول میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی شرکت بھارتی کمپنیوں کی امریکا میں بھی ویزہ جعلسازی، بڑا سکینڈل سامنے آگیا سنگاپور دنیا کے طاقتور پاسپورٹ میں پھر سرفہرست، پاکستان کا 100 واں نمبر

سڈنی میں دہشتگردی، پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

15 December 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، واقعے کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے پاکستانی حکام نے شدید مسترد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کے کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ اگر یہ افراد واقعی پاکستانی ہوتے، تو ان کے خاندان یا دیگر متعلقہ معلومات پاکستان میں دستیاب ہوتیں، جو کہ موجود نہیں۔اسرائیلی اخبار یروشلم اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے منظم ایجنڈے کے تحت الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جبکہ حقیقت میں ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے اور 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیلی ہوئی۔ آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے ممبر ہیں، جس کی وجہ سے ان سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے بتایا جاتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ کی تکنیک افغان طالبان کے مشہور طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا ایک مرکز بن چکا ہے۔پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان کو غلط طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔