LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

سڈنی میں دہشتگردی، پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

15 December 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، واقعے کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے پاکستانی حکام نے شدید مسترد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کے کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ اگر یہ افراد واقعی پاکستانی ہوتے، تو ان کے خاندان یا دیگر متعلقہ معلومات پاکستان میں دستیاب ہوتیں، جو کہ موجود نہیں۔اسرائیلی اخبار یروشلم اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے منظم ایجنڈے کے تحت الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جبکہ حقیقت میں ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے اور 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیلی ہوئی۔ آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے ممبر ہیں، جس کی وجہ سے ان سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے بتایا جاتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ کی تکنیک افغان طالبان کے مشہور طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا ایک مرکز بن چکا ہے۔پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان کو غلط طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔