LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ؛ علاقائی امن اور معاشی استحکام پر تبادلۂ خیال ایران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے شرائط نرم کر دیں: امریکی اخبار بھارت میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے بچوں سمیت 9 افراد ہلاک، 4 لاپتا معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر تقریب، مفکرِ پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش وزیراعظم کی نئے عراقی ہم منصب کو مبارکباد، تعلقات مضبوط بنانے کا عزم گوجرانوالہ کے لیے 31.5 کلومیٹر طویل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری محکمہ موسمیات کی آج سےبالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی امریکا کی خلیج عمان میں ناکہ بندی، ایران کو تیل کی آمدن میں بھاری نقصان اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ

عمران خان کی نظرثانی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

Web Desk

8 April 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس اہم معاملے کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے دوران بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا، جس کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے پہلے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں موقف اختیار کیا گیا کہ انہیں اپنے دفاع کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو کہ اب بعد میں سنایا جائے گا۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو ہتکِ عزت کے اس طویل مقدمے کے منطقی انجام کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔