ازدواجی زندگی میں تشدد، زیادتی سے متعلق قانون سازی کی درخواست خارج
Web Desk
6 November 2026
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے ازدواجی زندگی میں تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق الگ قانون سازی کی استدعا پر مشتمل درخواست خارج کرتے ہوئے اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا آئینی اختیار ہے اور عدالتیں خود ان کی جگہ قانون نہیں بنا سکتیں۔ عدالت عالیہ نے اپنے حکم نامے میں اہم ترین نکتہ اٹھاتے ہوئے قرار دیا کہ شادی سے کسی خاتون کے آئینی حقوق یا انسانی وقار کم نہیں ہوتا اور نہ ہی شادی کسی شریکِ حیات کو تشدد کا جواز فراہم کرتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے پنجاب سمیت تمام صوبوں میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین پہلے سے موجود ہیں، تاہم اگر اسمبلی چاہے تو اس حساس معاملے پر قانون سازی کا عمل آگے بڑھا سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے: دفتر خارجہ
6 November 2026
وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار
6 November 2026
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردیں
6 November 2026
وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی
6 November 2026
پنجاب میں کرپشن کے الزامات، سالک حسین نے نوٹس ملنے کی تصدیق کردی
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
ایران سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا: ٹرمپ
6 November 2026