LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیہ روانہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹائمز اسکوائر پر ہونے والے 8 تاریخی ‘بال ڈراپ’  عوامی تقریب کو  ایک انتہائی محدود اور نجی ایونٹ میں تبدیل کر دیا گیا امریکہ کی 250ویں سالگرہ، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر 8 مرتبہ ‘بال ڈراپ’ کا تاریخی جشن، شیڈول جاری شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات جاری، عالمی وفود کی آمد 28 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب تلف، 18 ہزار بوتلیں نذرِ آتش ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 17 افراد جاں بحق، 41 زخمی ہوئے: این ڈی ایم اے جاپانی وزیراعظم کا دورہ بھارت، چین نے دونوں ممالک کو خبردار کردیا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت این ڈی ایم اے کی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا پہلا اجلاس، مون سون خطرات کا جائزہ لیا گیا لاہور میں غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کارروائی، 744 اداروں کو نوٹس جاری روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے ان میں حصہ لینا چاہیے تھا،، گورنر پنجاب مولڈووا کے وزیر اعظم الیگزینڈرو مونٹیانو نے استعفیٰ دے دیا سرکاری ملازم کی ترقی سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری معروف عالم ناصر مدنی کی نمازِ جمعہ کے دوران اچانک طبیعت بگڑگئی، اسپتال منتقل

سپریم ایپلیٹ کورٹ کا بڑا فیصلہ، جی بی اے-17 کے 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم

Web Desk

3 July 2026

سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے حلقہ جی بی اے-17 (ڈیامیر) کے متنازع انتخاب سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حلقے کے 8 متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم ایپلیٹ کورٹ کے چیف جج جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کیس کی سماعت کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے 15 جون کو جاری کیا گیا حکم نامہ سراسر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حلقے کا حتمی نتیجہ مرتب کرنے کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا ہے۔

عالیہ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ الیکشن کے روز نامعلوم مسلح افراد متعدد پولنگ اسٹیشنز میں زبردستی داخل ہوئے، وہاں موجود عملے سے انتخابی مواد اور بیلٹ پیپرز چھین لیے جس کی وجہ سے انتخابی عمل شدید متاثر ہوا اور شفاف انتخابات کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، حلقے کے 6 پولنگ اسٹیشنز کے بیلٹ باکس سرعام چھین لیے گئے تھے، جن کے ووٹ فارم 47 میں شامل ہی نہیں کیے گئے تھے، جس سے پورے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان 8 پولنگ اسٹیشنز پر سنگین انتخابی بے ضابطگیاں اور قانون کی صریح خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں، اس لیے وہاں کے عوام کو دوبارہ حقِ رائے دہی دینا ناگزیر ہے۔

سپریم ایپلیٹ کورٹ نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے ہی سابقہ فیصلے پر نظرثانی (Review) کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، لہٰذا ان کا 15 جون کا حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ان متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر فوری طور پر نیا انتخابی شیڈول جاری کرے اور دوبارہ شفاف پولنگ کے انتظامات مکمل کرے۔

واضح رہے کہ ریٹرننگ آفیسر (RO) کی جانب سے جاری کردہ فارم 49 کے مطابق اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے امیدوار محمد نسیم 8 ہزار 954 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے، جبکہ جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیدوار حاجی رحمت خالق 5 ہزار 286 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ تاہم، اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد حلقے کے حتمی نتیجے کا فیصلہ ان 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ہونے والی پولنگ کے بعد ہی ہوگا۔