LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم میرپور والو! سچ، انصاف اور امن کے لیے 27 جولائی کو تیر پر مہر لگائیں: بلاول بھٹو زرداری امریکا نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج میرپور آزاد کشمیر ڈویژن کے تین اضلاع کے 13 حلقوں میں انتخابات کل ہونگے آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ اہم پیشرفت، تکنیکی و سیاسی مشاورت جاری ہے: ایران بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین

شیری رحمان کا سندھ سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر کرارا جواب

Web Desk

24 November 2025

سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ کے بارے میں بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف جارحانہ ہے بلکہ تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔

شیری رحمان نے یاد دلایا کہ سندھ پاکستان میں شامل ہونے والا پہلا صوبہ تھا اور اس نے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی آزادی سے پہلے شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز حکومت میں بھی سندھ نے بمبئی میں شمولیت سے انکار کیا اور 1 اپریل 1936 کو بمبئی سے الگ ہو کر اپنی شناخت بحال کی۔سینیٹر نے بھارتی وزیر دفاع کو نصیحت کی کہ وہ اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے مسائل پر توجہ دیں اور حقیقت قبول کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں ان کا تسلط قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کا نام “سندھو” قدیم سندھ کی تہذیب سے آیا ہے، اور صرف ناموں کی مشابہت کی بنیاد پر علاقے ہتھیانا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس منطق کو قبول کر لیا جائے تو پاکستان کئی بھارتی علاقوں پر بھی دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن ہماری کوئی توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اور پُرامن ریاست ہے جو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی محاذ پر مضبوط ردعمل دینے کے قابل ہے