LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ

شیری رحمان کا سندھ سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر کرارا جواب

Web Desk

24 November 2025

سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ کے بارے میں بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف جارحانہ ہے بلکہ تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔

شیری رحمان نے یاد دلایا کہ سندھ پاکستان میں شامل ہونے والا پہلا صوبہ تھا اور اس نے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی آزادی سے پہلے شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز حکومت میں بھی سندھ نے بمبئی میں شمولیت سے انکار کیا اور 1 اپریل 1936 کو بمبئی سے الگ ہو کر اپنی شناخت بحال کی۔سینیٹر نے بھارتی وزیر دفاع کو نصیحت کی کہ وہ اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے مسائل پر توجہ دیں اور حقیقت قبول کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں ان کا تسلط قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کا نام “سندھو” قدیم سندھ کی تہذیب سے آیا ہے، اور صرف ناموں کی مشابہت کی بنیاد پر علاقے ہتھیانا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس منطق کو قبول کر لیا جائے تو پاکستان کئی بھارتی علاقوں پر بھی دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن ہماری کوئی توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اور پُرامن ریاست ہے جو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی محاذ پر مضبوط ردعمل دینے کے قابل ہے