LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی قیمتی پتھروں کیلئے برانڈ پاکستان متعارف کروانے کی ہدایت آئینی عدالت: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار کے پی حکومت سیکیورٹی چیلنجز پر چڑھائی کو ترجیح دیتی رہی، قیدی رہنما کا ریلیف عدالتوں کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا کا فیصلہ واپس لے کر ایوان کو مضبوط بنایا جائے، یہ حکومت بندوق اور پیسے کے زور پر قائم ہے: اپوزیشن لیڈر حکومت نے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی لیکن تحریک انصاف نے سیاسی خود کش حملہ کیا: بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش محسن نقوی سے روسی ہم منصب کی ملاقات، وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث پاکستانی پروازیں متاثر، 114 منسوخ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لائیو سٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا وفاقی آئینی عدالت: بشریٰ بی بی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ ایران پر زمینی حملہ امریکی فوج کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا: مشیر اعلیٰ کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب پاکستان کو اکتوبر میں پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ کوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ایگزیوس کا ایران کیخلاف فوجی آپریشن پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بات چیت کا دعویٰ وزیراعظم سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی سلامتی پر گفتگو

شیری رحمان کا سندھ سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر کرارا جواب

Web Desk

24 November 2025

سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ کے بارے میں بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف جارحانہ ہے بلکہ تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔

شیری رحمان نے یاد دلایا کہ سندھ پاکستان میں شامل ہونے والا پہلا صوبہ تھا اور اس نے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی آزادی سے پہلے شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز حکومت میں بھی سندھ نے بمبئی میں شمولیت سے انکار کیا اور 1 اپریل 1936 کو بمبئی سے الگ ہو کر اپنی شناخت بحال کی۔سینیٹر نے بھارتی وزیر دفاع کو نصیحت کی کہ وہ اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے مسائل پر توجہ دیں اور حقیقت قبول کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں ان کا تسلط قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کا نام “سندھو” قدیم سندھ کی تہذیب سے آیا ہے، اور صرف ناموں کی مشابہت کی بنیاد پر علاقے ہتھیانا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس منطق کو قبول کر لیا جائے تو پاکستان کئی بھارتی علاقوں پر بھی دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن ہماری کوئی توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اور پُرامن ریاست ہے جو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی محاذ پر مضبوط ردعمل دینے کے قابل ہے