LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 9700 پوائنٹس کی کمی، ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسرائیل پر میزائل حملے، لبنان میں جھڑپیں، کئی شہری شہید ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا قطر ایئر ویز 9 مارچ سے محدود پروازوں کا آغاز کرے گی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود کراچی پورٹ پر تیسرا ٹرانس شپمنٹ جہاز لنگر انداز امریکی صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی : پاکستانی شہری مجرم قرار صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی کم از کم رقم 300 روپے مقرر، اسلامی نظریاتی کونسل نے نصاب جاری کر دیا

شیری رحمان کا سندھ سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر کرارا جواب

Web Desk

24 November 2025

سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ کے بارے میں بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف جارحانہ ہے بلکہ تاریخ سے لاعلمی پر مبنی ہے۔

شیری رحمان نے یاد دلایا کہ سندھ پاکستان میں شامل ہونے والا پہلا صوبہ تھا اور اس نے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی آزادی سے پہلے شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز حکومت میں بھی سندھ نے بمبئی میں شمولیت سے انکار کیا اور 1 اپریل 1936 کو بمبئی سے الگ ہو کر اپنی شناخت بحال کی۔سینیٹر نے بھارتی وزیر دفاع کو نصیحت کی کہ وہ اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے مسائل پر توجہ دیں اور حقیقت قبول کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں ان کا تسلط قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھارت کشمیری عوام پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کا نام “سندھو” قدیم سندھ کی تہذیب سے آیا ہے، اور صرف ناموں کی مشابہت کی بنیاد پر علاقے ہتھیانا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس منطق کو قبول کر لیا جائے تو پاکستان کئی بھارتی علاقوں پر بھی دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن ہماری کوئی توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اور پُرامن ریاست ہے جو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی محاذ پر مضبوط ردعمل دینے کے قابل ہے