LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

زرمبادلہ ذخائر قرضوں سے نہیں انٹربینک مارکیٹ سے خریداری سے بڑھے، رواں سال ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کریں گی: اسٹیٹ بینک

Web Desk

3 July 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلاتِ زر (Remittances) کے حوالے سے اہم ترین حقائق اور اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ مرکزی بینک کے حکام کے مطابق، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کسی بیرونی قرضے کے باعث نہیں بلکہ انٹربینک مارکیٹ سے امریکی ڈالر کی خریداری کے نتیجے میں بڑھے ہیں، اور سب سے مثبت بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کو یہ زرمبادلہ ذخائر کسی بھی بیرونی ادارے یا ملک کو واپس نہیں کرنے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2023ء میں ترسیلاتِ زر 27.3 ارب ڈالر تھیں، جو سال 2025ء میں بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

مرکزی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2026ء میں ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر سے بھی زائد رہیں گی، جو اسٹیٹ بینک کے لگائے گئے پیشگی تخمینے کے بالکل عین مطابق ہیں۔ مزید برآں، بینک کی جانب سے نئے مالی سال کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کر لی گئی ہے، جس کے تحت مالی سال 2027ء میں ترسیلاتِ زر کا حجم مالی سال 2026ء کے مقابلے میں بھی زیادہ بہتر رہنے کی امید ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی و جنگ کے دوران یہ چہ مگوئیاں عروج پر تھیں کہ اس صورتحال سے پاکستان کی ترسیلاتِ زر شدید متاثر ہوں گی۔ تاہم، اسٹیٹ بینک نے خطے میں ماضی میں ہونے والی جنگوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ حالات کے باعث ترسیلاتِ زر میں زیادہ سے زیادہ صرف 1 ارب ڈالر تک کی معمولی کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت پر کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوگا۔