LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ خوراک کی بلا تعطل فراہمی کے لیے امارات میں متبادل سپلائی چین فعال رجب بٹ نے اہلیہ ایمان فاطمہ سے شادی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ایران پر جتنا دباؤ بڑھے گا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، چین کا ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ نیویارک:میئر ہاؤس کے باہر اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے گئے، 2افراد زیر حراست  جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ رہے: امریکی صدر ٹرمپ دبئی میں فضائی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے جاں بحق ڈرائیور پاکستانی تھا، اماراتی حکام ایران پر کسی بھی بڑے حملے سے رجیم چینج ممکن نہیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پیشگی منصوبہ بندی نہ ہوتی تو پیٹرول 375 روپے فی لیٹر ہو چکا ہوتا :خواجہ آصف ایرانی حملوں سے پاکستان کو سعودی عرب کے معاملے میں مشکل صورتحال کا سامنا جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے بعد ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ تہران میں حملہ ، قدس فورس کے 16طیارے تباہ کردیے، اسرائیل کا دعویٰ آسان شکار نہیں، عوام کی حفاظت کریں گے، صدر یواے ای کا ایرانی حملوں پرردعمل ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیاپر احسان اور خدمت ہے، امریکی صدر

ایرانی حملے خطے کو کشیدگی کی طرف دھکیل رہے ہیں، دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، سعودی عرب

Web Desk

4 March 2026

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنانے کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مسلسل اقدامات پورے خطے کو خطرناک کشیدگی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور سفارتی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق عالمی معاہدوں کے منافی ہیں۔ سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی مشنز اور عملے کو ہر صورت تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بزدلانہ اور بلاجواز حملے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں 1949کا جنیوا کنونشن اور 1961 کا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات بھی شامل ہیں، جو سفارتی عمارتوں اور عملے کو استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کہ مسلح تنازعات کے دوران بھی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی فریق کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم اپنی سلامتی، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، مگر اگر جارحیت جاری رہی تو مناسب جواب دینے کا اختیار برقرار رکھا جائے گا۔