LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
راولپنڈی: تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی جاوید کوثر گرفتار تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کے خلاف ڈنمارک میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے امریکی ایوانِ نمائندگان میں نئی تاریخ رقم، ڈیموکریٹس کی 100 سے زائد خواتین کامیاب ٹرمپ کے مواخذے کیلئے ڈیموکریٹس کو مزید 13سینیٹرز کی حمایت درکار وفاقی آئینی عدالت: جے یو آئی کی مخصوص نشست سے متعلق اپیل خارج امریکی مڈٹرم انتخابات کے اثرات: سٹاک مارکیٹ میں 4500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس جاپان میں سیاحوں کی انوکھی حرکت، ٹوکیو کی سڑکوں پر سینکڑوں لاوارث بیگز، جرمانوں کی تیاری پنجاب کے مختلف علاقوں میں گیس کی بندش اور لو پریشر سے شہری پریشان سعودیہ کے بعد چین اور کویت کی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی اسلام آباد میں اپوزیشن کا مشترکہ محاذ: آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور کمیٹیاں بنانے کا اعلان، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش سعودیہ کے بعد چین اور کویت کی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی پاک فوج کا ضلع نیلم کی شونٹر ویلی میں فری میڈیکل کیمپ، مریضوں کا معائنہ سعودیہ اور شام میں دفاعی تعاون کا معاہدہ، عالمی توانائی فراہمی کے تسلسل پر زور امریکی وسط مدتی انتخابات سے اے آئی صنعت کو بڑا سیاسی دھچکا

امریکی ایوانِ نمائندگان میں نئی تاریخ رقم، ڈیموکریٹس کی 100 سے زائد خواتین کامیاب

Web Desk

5 November 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کی رکن بننے جا رہی ہیں، جسے امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز اور تنظیم ‘الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن’ کے مطابق یہ کامیابی دہائیوں کی جدوجہد، فنڈز کی فراہمی اور ووٹرز کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی نمایاں شخصیات میں جارجیا سے جیسمین کلارک (کانگریس کی پہلی سیاہ فام پی ایچ ڈی سائنس دان) اور کولوراڈو سے میلات کیروس (پہلی ‘جنریشن زی’ اور سیاہ فام خاتون نمائندہ) شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، مہنگائی اور معاشی دباؤ سے متاثرہ خواتین ووٹرز نے اس انتخاب میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، تاہم 50 فیصد آبادی کے مقابلے میں کانگریس میں خواتین کی مجموعی نمائندگی فی الوقت 28 فیصد تک ہی پہنچ سکی ہے۔