LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی سکیورٹی خدشات: شہزادہ ہیری نے دونوں بچوں کو اچانک سکول سے اٹھا لیا یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام ایران کا شرائط پوری ہونے تک امریکا سے مذاکرات سے پھر انکار تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اب ممکن نہیں رہا: ایرانی سپیکر سینٹ کام نے ایل گایا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا امریکیوں نے ایک دہشتگرد انتظامیہ قائم کر رکھی ہے: ایرانی صدر ایران کی تکنیکی اور معاشی مدد: امریکا کی روسی بینک پر پابندیاں عائد مریم نواز کو دوسرے صوبوں سے خطرہ، مجھے پنجابیوں سے خطرہ نہیں: سہیل آفریدی یمنی حوثیوں کا سعودیہ کے کنگ خالد ایئربیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ میئر کراچی نے مصطفیٰ کمال کے 300 ارب خرچ کرنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دیئے

ہر جماعت کو پرامن احتجاج کی اجازت، پرتشددکی نہیں: رانا ثنا اللہ

Web Desk

15 September 2026

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کی مکمل اجازت ہے، تاہم کسی بھی صورت پرتشدد سرگرمیوں یا امن و امان کی صورتِ حال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سیاسی پسِ پردہ رابطے جاری ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دو واضح مقاصد ہیں؛ اول بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور دوم وفاقی حکومت کا خاتمہ۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی اپنی تقاریر میں بانی پی ٹی آئی کو رہا کروائے بغیر واپس نہ لوٹنے کے دعوے کر رہے ہیں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی باتیں کر رہے ہیں، حالانکہ رہائی کا معاملہ عدالتی ہے اور اس سے متعلق درخواستیں اعلیٰ عدلیہ میں زیرِ التوا ہیں۔ صوبوں کے قیام اور ریفرنڈم سے متعلق بحث پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس بارے میں کوئی بھی حتمی فیصلہ حکومت کے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے، اور آئین کے تحت ریفرنڈم کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ہی حاصل ہے۔