LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا: وزیراعظم

Web Desk

9 April 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اعتراف پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سے قبل، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے طویل مدتی تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا تھا۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک عرصے سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈیوں کو بری طرح متاثر کیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا نے اس نازک صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے سفارتی کردار کو خصوصی طور پر سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی مذاکرات کے ذریعے کسی مستقل حل کی بنیاد بنے گی۔