LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا: وزیراعظم

Web Desk

9 April 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اعتراف پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سے قبل، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے طویل مدتی تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا تھا۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک عرصے سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈیوں کو بری طرح متاثر کیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا نے اس نازک صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے سفارتی کردار کو خصوصی طور پر سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی مذاکرات کے ذریعے کسی مستقل حل کی بنیاد بنے گی۔