عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اقوامِ متحدہ پولیس کے ناگزیر کردار کو اجاگر کیا گیا
Web Desk
7 February 2026
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور پولیسنگ کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اقوامِ متحدہ پولیس (UNPOL) کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا ہے۔
سلامتی کونسل میں امن مشنز کے پولیس کمشنرز کے موضوع پر منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن مشنز سلامتی کونسل کے لیے بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز ایک اجتماعی ذمہ داری ہیں اور اقوامِ متحدہ کے نیلے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان کی دیرینہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب تک 50 سے زائد فارمد پولیس یونٹس اقوامِ متحدہ کے مختلف امن مشنز کے لیے فراہم کر چکا ہے، جن میں ہیٹی، دارفور، تیمور لیستے اور کوٹ ڈی آئیوار شامل ہیں۔
انہوں نے ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے 11 پاکستانی پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بھی ایک فارمد پولیس یونٹ کو تیز رفتار تعیناتی کی سطح پر تیار رکھے ہوئے ہے، جو عالمی امن کے لیے اس کے عزم کا مظہر ہے۔
سفیر عاصم نے پاکستانی پولیس افسران کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستانی خاتون پولیس افسر شہزادی گل فام 2011 میں انٹرنیشنل فیمیل پولیس پیس کیپر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ جنوبی سوڈان میں UNMISS مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے 13 پاکستانی پولیس اہلکاروں، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، کو شاندار کارکردگی پر اقوامِ متحدہ کے تمغے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ پولیس امن مشنز کا ایک مرکزی ستون ہے جو سیاسی عمل کی معاونت، شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی کے فروغ اور پائیدار منتقلی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے پیچیدہ اور وسائل کی کمی سے دوچار ماحول میں۔
امن مشنز کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مالی بحران اور میزبان ممالک کی جانب سے تعاون کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجاز 7,740 اہلکاروں کے مقابلے میں اس وقت صرف تقریباً 4,600 اقوامِ متحدہ پولیس اہلکار تعینات ہیں، جس سے مینڈیٹس کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی مالی ذمہ داریاں بروقت ادا کریں تاکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کی مؤثریت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلیو ہیلمٹس اقوامِ متحدہ کے امن و استحکام کے عزم کی سب سے نمایاں علامت ہیں اور ان کی صلاحیت کو کمزور نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔
اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور پولیسنگ کو مؤثر بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا
متعلقہ عنوانات
آئرلینڈ کی سفیر کی صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے ملاقات
3 September 2026
یوکرین میں امن معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے: صدر پوتن
3 September 2026
وزیراعظم کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک، بہادری پر خراج تحسین
3 September 2026
سوشل میڈیا پر سائبر سکیورٹی سے متعلق نوٹیفکیشن جعلی اور گمراہ کن ہے: پی ٹی اے
3 September 2026
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ، مجموعی ذخائر 22 ارب 52 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے
3 September 2026
حکومت نے دھرنے موخر کرنیکا کہا، دھرنے بھی چلیں گے اور مذاکرات بھی: حافظ نعیم الرحمٰن
3 September 2026
ایرانی فوج کا یو اے ای اور کویت میں امریکی اڈوں پر نئے حملوں کا دعویٰ
3 September 2026
انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کے لیے امریکی امپیکٹ ایوارڈ
3 September 2026