LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی امریکہ کو 7 شرائط پیش، مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ ناکہ بندی کے دوران 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہاز واپس بھیجے، سینٹ کام سعودی و برطانوی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو سعودی شہر جازان پر حوثیوں کا حملہ: عمارتیں اور گاڑیاں نشانہ، 2 افراد زخمی حوثیوں کا یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کی جانب سے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ ایران اور عمان میں طے پانے والی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی: ایرانی میڈیا یمن میں حالات ابتر، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے: یمنی سفیر چینی صدر کی امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش امریکی نمائندے کیف میں کوئی نئی تجاویز لے کر نہیں آئے، دفتر یوکرینی صدر فوجی صلاحیتیں دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ، قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: سربراہ ایرانی فوج امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو وہ اسرائیل کو تباہ کر دے گا، امریکی صدر یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیار، خصوصی فوجی آپریشن نہیں روکیں گے: لاوروف علی ناصر رضوی ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے اور خرم آغا نیشنل پولیس بیورو تعینات ڈیجیٹل اثاثوں کے مؤثر ضابطے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے: بلال بن ثاقب

صحت کا نظام تباہی کی دہلیز پر، پی ایم اے نے قومی طبی ایمرجنسی کا مطالبہ کر دیا

Web Desk

12 February 2026

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) نے ملک کے موجودہ صحت کے نظام کو قومی طبی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نظامِ صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بیان PMA ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا گیا، جس میں رہنماؤں نے کہا کہ یہ بریفنگ معمولی پالیسی بحث کے لیے نہیں بلکہ فوری قومی اقدامات کے لیے بلائی گئی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، مگر صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق، پاکستان میں 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس دستیاب ہے۔

مقررین نے بتایا کہ سال 2025 تک تین ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں، جبکہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایمرجنسی وارڈز میں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی ایم اے نے مزید کہا کہ بڑے شہروں کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کے باعث بیمار ہوتے ہیں، پولیو اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسے امراض دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک میں 3 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس کے شکار ہیں اور ایشیا میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہر روز 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں ناقابل علاج وجوہات کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔

ادویات کی قیمتوں کے آزاد کرنے کے بعد بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ کی ادویات کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی شدید قلت ہے اور ڈریپ مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔

پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ صحت کے بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم تین فیصد تک بڑھایا جائے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں منجمد کی جائیں، ہیلتھ کیئر ورکرز پر تشدد کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے، اور پی ایم ڈی سی کو شفاف ادارہ بنایا جائے۔