LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی شاہِ اردن سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال 30 دن تک بغیر دھوئے پہنے جانے والی ٹی شٹ متعارف فرانسیسی خبر رساں ادارے کی صحافی کرسٹینا کیلئے انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان پیٹریاٹ میزائل بنانے پر امریکا اور یوکرین کے مذاکرات، ٹرمپ کے تحفظات برقرار امریکا، چین اور روس کے درمیان محدود نوعیت کی نئی شراکت داریاں قائم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، ایک شخص جاں بحق، 11 زخمی وزیر اعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر آج سعودی عرب روانہ ہوں گے ایران سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت جاری ہے: امریکی صدر سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور امریکا، ایران اور عمان کا آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان متوقع

صحت کا نظام تباہی کی دہلیز پر، پی ایم اے نے قومی طبی ایمرجنسی کا مطالبہ کر دیا

Web Desk

12 February 2026

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) نے ملک کے موجودہ صحت کے نظام کو قومی طبی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نظامِ صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بیان PMA ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا گیا، جس میں رہنماؤں نے کہا کہ یہ بریفنگ معمولی پالیسی بحث کے لیے نہیں بلکہ فوری قومی اقدامات کے لیے بلائی گئی ہے۔

پی ایم اے کے مطابق پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، مگر صحت پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق، پاکستان میں 2500 مریضوں پر صرف ایک نرس دستیاب ہے۔

مقررین نے بتایا کہ سال 2025 تک تین ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 45 فیصد بنیادی مراکز صحت غیر فعال ہیں، جبکہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایمرجنسی وارڈز میں تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پی ایم اے نے مزید کہا کہ بڑے شہروں کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے 40 فیصد مریض آلودہ پانی کے باعث بیمار ہوتے ہیں، پولیو اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسے امراض دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک میں 3 کروڑ 40 لاکھ افراد ذیابیطس کے شکار ہیں اور ایشیا میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہر روز 675 نوزائیدہ بچے اور 27 مائیں ناقابل علاج وجوہات کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔

ادویات کی قیمتوں کے آزاد کرنے کے بعد بلڈ پریشر، شوگر اور دمہ کی ادویات کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ انسولین سمیت 80 ضروری ادویات کی شدید قلت ہے اور ڈریپ مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔

پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ صحت کے بجٹ کو جی ڈی پی کے کم از کم تین فیصد تک بڑھایا جائے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں منجمد کی جائیں، ہیلتھ کیئر ورکرز پر تشدد کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے، اور پی ایم ڈی سی کو شفاف ادارہ بنایا جائے۔