LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی امریکہ کو 7 شرائط پیش، مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ ناکہ بندی کے دوران 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہاز واپس بھیجے، سینٹ کام سعودی و برطانوی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو سعودی شہر جازان پر حوثیوں کا حملہ: عمارتیں اور گاڑیاں نشانہ، 2 افراد زخمی حوثیوں کا یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کی جانب سے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ ایران اور عمان میں طے پانے والی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی: ایرانی میڈیا یمن میں حالات ابتر، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے: یمنی سفیر چینی صدر کی امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش امریکی نمائندے کیف میں کوئی نئی تجاویز لے کر نہیں آئے، دفتر یوکرینی صدر فوجی صلاحیتیں دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ، قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: سربراہ ایرانی فوج امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو وہ اسرائیل کو تباہ کر دے گا، امریکی صدر یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیار، خصوصی فوجی آپریشن نہیں روکیں گے: لاوروف علی ناصر رضوی ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے اور خرم آغا نیشنل پولیس بیورو تعینات ڈیجیٹل اثاثوں کے مؤثر ضابطے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے: بلال بن ثاقب

یمن میں حالات ابتر، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے: یمنی سفیر

Web Desk

13 September 2026

پاکستان میں یمن کے سفیر محمد مطاہر الاشبعی نے یمن کی موجودہ معاشی اور سیکیورٹی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک میں حالات انتہائی ابتر اور تشویش ناک حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں یمنی سفیر نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اس تمام بحران پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور محض باہر بیٹھ کر صورتِ حال کا نظارہ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تیل اور عالمی تجارت کی اہم ترین سمندری گزرگاہ ‘باب المندب’ کی ناکہ بندی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔

سفیر مطاہر الاشبعی نے خبردار کیا کہ باب المندب کی بندش سے نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک سنگین عالمی توانائی کے چیلنج (Energy Crisis) سے دوچار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی تسلیم شدہ حکومت خطے میں مستقل اور پائیدار امن کی خواہا ہے، تاہم حوثی باغی کسی بھی قسم کے معنی خیز مذاکرات اور سفارتی حل سے مسلسل انکاری ہیں، جس کے باعث ملک کو غیر معمولی دشوار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔